ایک وظیفہ پڑھنے کا حکم اور یک چشم شخص کی امامت کا مسئلہ
ایک وظیفہ کا حکم ! یک چشم ہونا مطلقا وجہ کراہت صلوۃ نہیں! حبیب الاولیاء مرشدی و مولائی ! السلام علیکم (1) بعد آداب کے بکمال ادب گزارش یہ ہے کہ میری زوجہ کا انتقال ہو گیا تھا، بچے چھوٹے تھے تو میں نے اپنا کارخانہ (چونہ فیکٹری ) ایک میرے ملنے والے رام آسرے ولد پلو، قوم حجام ساکن نا کہ مطفره شهر فیض آباد کو کرایہ پر دے دیا اور اگریمنٹ کرا لیا جب اگر یمنٹ کا ٹائم ختم ہو گیا تو میں نے خالی کرنے کو کرایہ دار سے کہا، اس نے حیلہ حوالہ شروع کر دیا ، اور پولیس میں ایک درخواست دی کہ یہ لوگ بڑے سرکش ہیں اور میرے لئے جان و مال کا خطرہ ہے اور اس کے بعد ایک پیڑ لگا کر اس کے نیچے پتھر اور پھول رکھ دیا کیونکہ جہاں کا رخانہ ہے وہاں آبادی اہل ہنود کی ہے اور جن سنکھی قوم کے لوگ ہیں، یہاں ایک مکان بھی مسلمان کا نہیں ہے کرایہ دار نے کچھ کو اٹر جو کرایہ کے علاوہ ہیں، اس میں اس نے تالا لگا لیا ہے۔ آپ سے فتویٰ چاہتا ہوں ، ایک ہزار ایک مرتبہ آٹے کی گولی پر پڑھ کر الوکیل چڑیوں کو کھلا دوں جس سے مجھ کو کرایہ دار سے نجات ملے، میں نے آستانہ رسالہ میں پڑھا تھا، ایک ولی نے یہ پڑھا تھا تو معتصم باللہ پر ہلاکو خاں نے حملہ کیا تھا۔ شرعی حکم سے مطلع کیجئے۔ (۲) ایک شخص جو پڑھا لکھا ہے مگر ایک چشم ہے اور حاجی بھی ہیں، جب کبھی پیش امام چھٹی پر جاتے ہیں تو مقتدی استدعا کرتے ہیں کہ آپ پڑھا دیجئے کسی کو اعتراض نہیں اور مقتدی خوشی اور رضا مندی سے جمعہ بھی پڑھانے کی استدعا کرتے ہیں، ایک مولوی صاحب جو دوسری مسجد کے امام ہو گئے ہیں ، پہلے بڑھئی کا کام کرتے تھے ، صرف ان کو اعتراض ہے کہ نماز مکروہ ہے، از روئے شرعی حکم سے مطلع کریں ۔ المستفتی : عبدالحسیب خاں ٹھیکہ دار محلہ حسنوکڑہ ، مکان A-790 فیض آباد
الجواب: (1) پڑھ سکتے ہیں۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) اگر وہ شخص امامت کا اہل ہے تو اس کی اقتدا کریں اور معترض کا اعتراض بے جا ہے اور اگر اس میں کوئی بات علانیہ خلاف شرع ہے تو اسے امام بنانا گناہ اور معترض کا قول صحیح ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب یکم ربیع الاول ۱۴۰۴ھ صبح الجواب۔ یک چشم ہونے کے سبب اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں، جو اس بنا پر مکر وہ بتائے ، وہ خود خطا کار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی