عرس و نیاز فاتحہ کا اعلان، وہابی کی گواہی اور چندہ سے حج کرنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) ایک امام صاحب جو اپنے آپ کو مسلک اعلیٰ حضرت کا ماننے والا کہتے ہیں ،مگر جب مفتی اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی برسی منائی جا رہی تھی تو جماعت نوری کمیٹی والوں نے بڑی دھوم کے ساتھ نیاز و فاتحہ خوانی کی اور جامع مسجد کے امام صاحب کو مسجد میں اعلان کرنے کو کہا تو امام صاحب نے یہ کہہ کر اعلان نہیں کیا کہ میں مسجد کی کمیٹی سے پوچھے بغیر اعلان نہیں کروں گا اور آخری تک اعلان نہیں کیا۔ تو ایسے امام صاحب کو کیا کھنا چاہئے ؟ اور مسجد میں امامت کے لئے رکھا جائے یا نہیں؟ (۲) بقر عید کے موقع پر چندر پور میں چاند نظر نہیں آیا اور امام صاحب نے شہادتیں لے کر عید کرنے کا اعلان کروا دیا، دوشہادتوں میں ایک وہابی مردود نے شہادت دی جبکہ امام صاحب اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وہابی ہے اور مسجد کا امام ہے، آیا امام صاحب کا یہ اعلان کروانا قرآن اور حدیث کی روشنی میں جائز ہوا یا نہیں؟ اور جن لوگوں نے عید منائی، اس کا گناہ کس پر عائد ہوا؟ جواب مرحمت فرمائیں۔ یہ وہی جامع مسجد کے امام ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ (۳) یہی امام صاحب اسی سال حج کعبہ کر کے تشریف لائے ہیں، مگر شہر والوں سے چندہ جمع کر کے انہیں حج کے لئے دیا گیا اور آپ حج کو جا کر آگئے جبکہ جانے سے قبل ایک تقریر میں مولانا انتخاب صاحب نے کہا تھا کہ چندہ سے حج نہیں بلکہ صرف تفریح کرنا ہے، معلوم ہونے کے بعد بھی یہی جامع مسجد کے امام صاحب حج کے لئے روانہ ہو گئے ۔ آیا کہ یہ حج ہوا یا تفریح ؟ ہمیں فتویٰ دیجئے جبکہ امام صاحب نے اپنے بارے میں پہلے ہی سے ایک فتویٰ منگا کر رکھا ہے اور اوپر کے مضمون میں یہ لکھا ہے کہ مجھے علم ہے اور میرا حافظہ مضبوط ہے اور جمعہ میں تقریر بھی کرتے ہیں جبکہ عالم یعنی صرف حافظ قرآن ہے، تو ایسے شخص کے
الجواب: باشم بھائی کی جال، سوسیل نگر کالا ضلع دھرابی ممبئی 40001 (1) صورت مسئولہ میں محض اس وجہ سے امام مذکور پر کوئی الزام نہیں اور ان کی امامت ناجائز نہ ہوگی۔ جب تک کہ کوئی مانع شرعی محقق نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ ہاں ، اگر شرعی طور پر ثابت ہو جائے کہ اس نے اعلان میں تساہل بدعقیدگی کی وجہ سے کیا تو ضرور ملزم ہے اور اس کی امامت شرع نا جائز وحرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں وہابی کی شہادت قبول کرنا جائز نہ تھا اور اس پر عید کا حکم دینا گناہ اور اگر وہابی کو دانستہ لائق شہادت و مسلمان جانا تو امام مذکور سخت ملزم ہوا، اس پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی لازم اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی فرض اور بعد تو بہ تا صلاح حال وہ امامت سے معزول کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حج کے لئے چندہ لوگوں نے اسے از خود کر کے دیا، یا اس نے سوال کیا، پہلی صورت میں الزام نہیں اور دوسری صورت میں وہ گنہ گار ہوا، اور حج بہر حال ہو گیا جبکہ وہ سن صحیح العقیدہ ہو، اور بے وجہ شرعی اپنی تعریف آپ کرنا حرام ہے اور جھوٹی تعریف کرنا اور زیادہ موجب وبال ہے اور بے علم کو تقریر کرنا جائز نہیں ۔ جس کے بابت یہ امور ثابت ومشتہر ہوں، وہ لائق امامت نہیں اور اس کی اقتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ صفر المظفر ۱۴۰۸ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی