مسجد کا چندہ اپنے استعمال میں لانے والے کی توبہ اور ادائے امانت کے بعد امامت کا حکم
خادم محمد ریحان کی طرف سے قدم بوسی ۔ بعد قدم بوسی عرض یہ ہے کہ آپ ہمیں فتویٰ دینے کی زحمت گوارہ فرمائیں: (1) ہمارے بیچ سٹی میں قاضی گلزار الدین صاحب نے مسجد کے نام سے چندہ اکٹھا کر کے مسجد میں نہ دیتے ہوئے اپنے مصارف میں لے لیا، اس لئے میچ کے لوگ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں قاضی گلزارالدین صاحب وصول کیا ہوا چندہ مسجد کو واپس کرنے کو تیار ہیں اور تو بہ بھی کر لی ہے، قاضی صاحب اگر چندہ واپس کر دیں اور مسلمانوں کے سامنے توبہ کر لیں تو ایسی صورت میں اُن کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یہ فتویٰ دینے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ المستنق : محمد یحان منصوری کمیٹی تحصیل لگا (ایم پی )
الجواب: (1) ہاں، بعد تو بہ وادائے امانت ان کی اقتدا جائز ہوگی جبکہ کوئی اور وجہ شرعی مانع امامت نہ ہو، اور ان پر اعتماد ہو کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / رجب المرجب ۱۴۰۶ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی