بدعقیدہ کے مسجد میں داخلے پر مسجد دھونے اور بدعقیدہ کے پیچھے نماز پڑھنے والے کی امامت کا حکم
مسجد میں بدعقیدوں کے داخل ہونے کی وجہ سے مسجد کیوں دھوئیں؟ یو بندی تبلیغی کے پیچھے نماز پڑھنے والا ہے تو بہ لائق امامت نہیں ! امام کے بنایا جائے ؟ وہابیہ کی تعریف کرنے والا انہی میں سے ہے! علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ : (۱) اگر تبلیغی جماعت کسی بھی مسجد میں آجائیں اور سنی مسلمان اس مسجد کو دھوئیں تو کیسا ہے؟ یا بلا دھوئے اس مسجد میں سنی مسلمان پڑھیں؟ یا دھوئیں ؟ کیا ہے؟ (۲) اگر عمر و حافظ قرآن و امام سنی مسلمانوں کا ہے اور اس کو خوب جانکاری ہے کہ یہ تبلیغی آدمی ہیں بلکہ دس پندرہ کی تعداد میں ہیں تو عمر و حافظ صاحب نے نماز اُن کے پیچھے پڑھی ہے تو سنی مسلمان مقتدیوں کو ان کے (حافظ عمر ) کے پیچھے نماز پڑھنا یا انکو اپنا امام مقرر کرنا جبکہ حافظ صاحب نے نماز نہیں دہرائی ہے، کیسا ہے؟ صاف صاف لکھیں ، تا کہ ایسے حافظ یا امام سے سنی لوگوں کو آگا ہی ہو۔ (۳) امام کس کو بنایا جائے؟ صاف صاف تحریر کریں بلکہ گاؤں کا صحیح سنی امام ہوتے ہوئے دوسرے باہری جس کی نسل کا بھی پتہ نہ ہو، کیسا ہے؟ (۴) جو شخص وہابی یا دیو بندی یا تبلیغی جماعت کی تعریف کرے تو اس کو ہم لوگ کیسا تصور کریں ؟ یا نماز پڑھنا اس کے پیچے کیا ہے؟ صف حریر کریں تا کہ لوگوں کو چنکارا ہے۔ المستفتی: احمد حسین خاں موضع کو رھی، محمله تروس ضلع باند (یوپی)
الجواب: (1) دھود دینا بہتر ہے تا کہ قلوب عوام میں بدعقیدوں سے نفرت زائد ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) امام مذکور نے دانستہ اگر دیوبندی تبلیغی کو اپنا امام بنایا تو سخت گناہ گار مستحق نار ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور تجدید نکاح بھی جبکہ شادی شدہ ہو۔ بے تو بہ اسے امام نہ کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سنی صحیح العقیدہ صحیح الطہارت صحیح القرآت غیر فاسق معلن کو امام بنا یا جائے اور مشتبہ الحال کو امام نہ بنانا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ انہیں میں سے ہے اور اسے امام بنانا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ