مقتدی کے لیے امام کا انتظار اور امام پر بے جا اعتراض کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید امام ہے اور امام صاحب ٹھیک وقت پر نماز ادا کرتے ہیں اور عمر و مقتدی ہے، عمر کہتا ہے کہ مولانا صاحب کبھی بھی جماعت سے نماز نہیں ملتی ہے، امام صاحب نے کہا کہ ٹھیک وقت پر آؤ گے تو جماعت ضرور ملے گی اور ٹھیک وقت پر نہیں آؤ گے تو تمہارے لئے انتظار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عمر و وقت گزار کر نماز ادا کرنے آتے ہیں، ٹائم کوئی مقرر نہیں اور امام صاحب کو ادھر ادھر کی باتیں سناتے ہیں اور نماز کے لئے انتظار کرنے کو کہتے ہیں۔ امام صاحب وقت کے پابند ہیں عمر و جو نماز ادا کرتے ہیں تو مغرب کا وقت ختم ہونے پر نماز ادا کرتے ہیں اور فجر میں سورج نکلنے کے وقت نماز ادا کرتے ہیں اور امام
الجواب: امام پر کسی کا انتظار لازم نہیں، علمائے کرام نے یہاں تک تصریح فرمائی کہ امیر محلہ اگر شریر نہ ہوتو اس کا بھی انتظار نہ کیا جائے۔ در مختار میں ہے: رئيس المحلة لا ينتظر - الخ )) عمرو کا اعتراض بیجا ہے اور امام کو ملعون کرنا بھی شرعاً غلط و صحیح ہے، عمر و پر لازم ہے کہ وقت کی پابندی کے ساتھ حاضر مسجد ہو، امام کی بدگوئی سے باز آئے اور اس سے معافی چاہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله