امام کا کمیٹی کے حسابات میں گڑبڑ اور کتمان حق کی صورت میں امامت کا حکم
کے عہدیداران سے لکھواتے اور وہ لکھتے تھے جب نئی کمیٹی کی تشکیل ہوئی اور اس نے حساب کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ اس میں کئی ہزار روپیہ کی گڑ بڑ ہے، اس پر پرانی کمیٹی اور نئی کمیٹی کے درمیان آپس میں اختلاف ہو گیا، جماعت میں بھی انتشار پھیلنے لگا چنانچہ زید کو اس کے فیصلہ کے لئے بلایا گیا، زید نے امام صاحب سے تنہائی میں گفتگو کی اور اُن سے دریافت کیا کہ حسابات آپ نے لکھے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، اس پر زید نے کہا کہ حساب لکھنے کی ذمہ داری نہیں اور لکھا تھا تو صحیح لکھتے ، اگر کچھ خامی تھی تو صدر سے دریافت کرتے ، ان کو روکتے پھر بھی وہ نہ مانتے تو جماعت میں اعلان کرتے ۔ جس کا جواب حافظ صاحب نے یہ دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا، اس کی ذمہ داری صدر صاحب پر ہے، جو انہوں نے لکھوایا وہ میں نے لکھ دیا (بلفظہ ) سوال یہ ہے کہ حافظ صاحب کا بیان کیا اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ حساب میں خامی ہومگر اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔ اگر کوئی خامی نہ ہوتی اس وقت کہتے کہ حساب میں کسی طرح کی گڑ بڑ نہیں ہے، حساب صحیح ہے۔ اور کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ یا تو اپنی امامت بچانے کے لئے انہوں نے ایسا کیا، یا وہ خود بھی شریک تھے۔ ایسی صورت میں ان کی امامت درست ہے یا نہیں؟ جب حساب کی خامی حافظ مذکور کے علم میں تھی تو کیا یہ ان کی شرعی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ ایسے صدر کو روکتے اور اگر وہ نہیں مانتے تو جماعت میں اعلان کرتے اور چونکہ انہوں نے ایسا نہ کیا تو کتمان حق کے مرتکب ہوئے یا نہیں؟ اگر ہوئے تو اُن کے پیچھے نماز کا شرعی حکم کیا ہے؟ زید نے جس پر فیصلہ رکھا گیا تھا اس نے ایک غیر جانبدار حساب داں سے دو مرتبہ حساب کی جانچ کرائی انہوں نے بھی کی یہی کہا کہ حساب غلط ہے اور نئی کمیٹی نے جو رقم لگائی ہے وہ صحیح ہے لیکن امام صاحب اور اُن کا گروپ کسی طرح ماننے کو تیار نہ ہوا، جس کی وجہ سے اختلاف بڑھتا گیا، نئی کمیٹی اور ان کے گروپ نے امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی جس کی وجہ سے تقلیل جماعت ہوئی، اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اور کیا امام کو ایسی صورت میں جبکہ مسلمانوں میں آپس میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا اور مار پیٹ تک ہو گئی ، امامت پر ڈٹے رہنا، جائز ہے یا نا جائز ؟ یا اسے خود ہی علیحدگی اختیار کرنا چاہیئے ؟ ایسی صورت میں ان کی اقتدا میں نماز ہوگی یا نہیں؟ (۲) نئی کمیٹی کی تشکیل پرانی کمیٹی اور بستی کے مسلمانوں کے باہمی مشورہ سے ہوتی تھی لیکن مندرجہ بالا حالات پیدا ہونے کے بعد امام صاحب اور پرانی کمیٹی کے صدر اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہوا کہ یہ
الجواب: (1) فی الواقع اگر امام مذکور حساب کی خامی پر مطلع تھا تو اُسے حلال نہ تھا کہ غلط حساب لکھے، اس طرح صدر کے ساتھ فریب دہی میں شریک ہوا ، اگر یہی واقعہ ہے کہ امام نے غلط حساب برضا و رغبت بغیر کسی شرعی مجبوری کے لکھا اور یہ امر شرعاً ثابت و مشتہر ہے تو اس کی اقتداء مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے، اگر چہ پہلے نادانستہ غلط حساب لکھا۔ واللہ تعالی اعلم (۲) نہیں، بلکہ دوسری کمیٹی کے ارکان اپنے عہدوں پر بحال رہیں گے جبکہ کوئی وجہ شرعی مانع نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله