امامت کا اہل کون اور فجر کے بعد سلام پڑھنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اہل سنت مسائل ذیل میں کہ: (1) یہاں پر مسجد ہے، جاہل ان پڑھ لوگ ہیں ، ایسی جگہ پر امامت اذان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۲) فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ سلام پڑھتے ہیں: ”یا نبی سلام علیک‘ پور اسلام اور قرآن میں بھی دیکھا یا ۲۲ ویں پارے میں تو وہ کہتے ہیں یہ تو التحیات میں پڑھا جاتا ہے، اسلام کوئی فرض عین نہیں ہے اور یہ سال دوسال سے نئی بات کرنے لگے لیکن دو تین لوگ اور ہم لوگوں نے کوئی بات پر توجہ نہیں کی، برابر پڑھتے رہے، اس کے متعلق بھی حکم کیا ہے؟ تحریر کریں۔
الجواب: (1) امامت اس کی جائز وصیح ہے جو سنی صحیح العقیدہ صیح الطہارت، صحیح القرآة ، مسائل طہارت و نماز سے واقف اور با شرع ہو ۔ جو ان اوصاف کا حامل نہ ہو ، اسے امامت کرنا حلال نہیں اور اذان بھی با شرع سے کہلوائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے اور اللہ تعالیٰ نے صلاۃ وسلام کا حکم مطلق بلاقید وقت و تخصیص کیفیت دیا ہے، یہ کہنا کہ التحیات میں پڑھا جاتا ہے اور یہ مطلب نکالنا کہ التحیات کے علاوہ پڑھنا منع ہے، قرآن و شرع پر افتراء ہے۔ تو ان لوگوں کی بات قابل التفات نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی