چندہ کے پیسوں میں خیانت کرنے والے امام کی توبہ اور امامت کا حکم
یہاں کا پیش امام کے یہاں کے مقامی لوگوں پر سب راز کھل گئے اور اب کسی طرح بچنے کی صورت نہیں ہے تو زید جو عمداً اور قصداً چندہ ادارے کے نام پر وصول کر کھا تا پیتا رہا، جمعہ کی نماز میں اپنے اس فعل کا اقرار کرتے ہوئے حقیقت کو توڑ کر مروڑ کر معافی مانگ لی اور نا اہل لوگوں نے معاف بھی کر دیا تو کیا ایسے شخص کی غلطی جو عہد ہوتی رہی، توڑ مروڑ کی معافی سے اسے معاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں ؟ کچھ لوگ بہت ہی ان کے اس فعل سے برہم ہو چکے ہیں، انہیں پیش امام رکھنا اور ان کا رہنا پسند نہیں کرتے۔ تو ایسے حافظ اور پیش امام جو عمد اغلطی کرتے رہے ہوں ، اور زکوۃ و فطرہ جو مسکینوں کے حق کو دھوکہ دے کر پامال کرتے رہے ہوں ، شرع میں کیا حکم ہے؟ جلد از جلد فیصلہ کر کے روانہ کر دیجئے ۔ ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔
الجواب: المستفتی: شیخ محمد رمضان قادری مؤذن قصائی منڈی ضلع دموہ پر توبہ صحیحہ فرض ہے، توبہ صحیحہ یہ ہے کہ باز رہنے کا پختہ عزم کرے اور جن کے روپے ہیں، انہیں واپس دے دے اور ان سے عذر خواہ ہو، یا ان سے وہ روپے معاف کرائے۔ پھر جب اس کا صلاح حال لوگوں پر ظاہر ہو جائے تو امامت کے لائق ہوگا، جب تک اسے امامت سے موقوف رکھا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ مغلسرائے اسٹیشن