نسبندی کا مرتکب بعد تو بہ بشرط اہمیت امام ہو سکتا ہے!
سوال
جناب من قبلہ مفتی صاحب! السلام علیکم ہمارے یہاں مسجد میں مولانا عبد العزیز صاحب ہیں اور ان کا آپریشن (نسبندی) ہو چکا ہے ہمارے مسلمان بھائیوں میں خطرات چل رہے ہیں کہ ایسے پیش امام کے پیچھے نماز نہیں ہے اور ہم نے اس بارے میں بھوپال واندور سے فتویٰ منگایا تو اس میں ناجائز بتایا ہے۔ آپ بھی ہمیں اس راستے میں صحیح صحیح قرآن و حدیث کی روشنی سے آگاہ کریں۔ اگر ایسے امام صاحب تو بہ کر لیتے ہیں تو کیا امامت کر سکتے ہیں؟ المستنتی : پینوشاوین کالوخان مقام و پوست اتو اس مضلع ریواس
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نسبندی حرام اور اس کا مرتکب گنہ گار ہے، تو بہ کے بعد بشرط اہلیت اس کی امامت میں کراہت نہیں ہوگی ۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله نزیل بنارس/ ۱۳ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۸۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
چندہ کے پیسوں میں خیانت کرنے والے امام کی توبہ اور امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
کسی کو ناحق قتل کرنے والے کے ساتھ میل جول، سلام کلام ، دعوت و طعام اور اس کی امامت کا حکم !
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک جعلی حافظ اور مدرسہ کا فرضی چندہ کرنے والے کی امامت کا سوال
باب: کتاب الصلوٰۃ
سولہ سال کے لڑکے کی امامت اور جس کی بیوی نے بغیر اجازت نسبندی کرائی اس کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امامت کا اہل کون اور فجر کے بعد سلام پڑھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ