قرآن کے بعض الفاظ کو چھوڑ کر پڑھنے والا امام نہیں ہو سکتا! زوجہ کی بے پردگی پر راضی رہنے والا فاسق معلن ہے ابے پردہ غیر محارم کو پڑھانے والا، نماز کی پابندی نہ کرنے والا سنیما دیکھنے والا لائق امامت نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع محمدی؟ حسب ذیل حالات میں امامت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۱) آنکھوں سے بہت ہی کم نظر آتا ہے، جائے نماز کا رُخ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ (۲) یادداشت میں بہت کمزوری ہے، چند سورتیں یاد ہیں، لفظ چھوڑ کر پڑھ جاتے ہیں، اگر کوئی بتائے تو حجت کرتے ہیں۔ (۳) گھر والی بے پردہ سر عام پھرتی ہیں۔ (۴) بوجہ کم روشنی آنکھوں سے پاکی ناپاکی کا بھی احتمال نہیں۔ دوسرے امام صاحب: (1) ایک گھر میں بے پردہ پڑھاتے ہیں۔ (۲) نماز کے پابند نہیں ، نہ پڑھنے کے عادی ہیں ۔ (۳) کہنے کو اللہ کے کرم سے حافظ قرآن ہیں۔ (۴) سنیما دیکھنے کے عادی ہے اور جو بھی کبھی کبھی کھیلتے ہیں۔ (۵) اکثر ڈھول بجا کر گانا بھی ہوتا ہے ان کے گھر میں ۔ جلد جواب دینے کی تکلیف گوارہ کریں، میں آپ کا بہت بہت شکرگزار ہوں گا۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتی: عبدالجبار تکریہ بازار، جامع مسجد ، آگرہ
الجواب: دونوں لائق امامت نہیں، پہلا تو یوں کہ چھوڑ چھوڑ کر پڑھتا ہے، تو ایسی غلطی ممکن جو مفسد نماز ہو اور بیوی کی بے پردگی سے اگر راضی ہے، حتی الوسع اسے باز نہیں رکھتا تو فاسق معلن ہے جبکہ یہ جرم شرعاً ثابت ہو اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اور دوسرے میں متعدد فجور کی باتیں ذکر ہوئیں، اگر یہ جرائم اس پر ثابت و مشتہر ہوں تو وہ بھی امامت کے لائق نہیں کسی اور سنی صحیح القرآۃ صحیح الطہارت غیر فاسق معلن کو امام بنا ئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم