نسبندی کرانے والا اگر بعد تو بہ نماز پڑھائے تو حرج نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و حامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : زید جو کہ نسبندی کراچکا ہے، کیا اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ جبکہ اس نے شرعی طور پر تو بہ کر کے اپنے آپ کو اس نازیبا حرکت سے رجوع کیا نیز اس فعل قبیح کے تحت اس نے تجدید بیعت بھی۔ عمرو خالد کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز درست نہیں، فاتحہ خوانی وقربانی بھی اس کی کی ہوئی درست نہیں اور محمود کا کہنا ہے کہ تو بہ سے کفر و شرک جیسا گناہ عظیم معاف ہو سکتا ہے تو یہ سوید کی حرام اشد حرام حیج مگر کفر نہیں، اس لئے اس کی تو بہ کیونکر نہ ہو سکتی ہے؟ نماز اس کی اقتدا میں یقینا اس وجہ سے درست ہے، یونہی قربانی اذان فاتحہ وغیرہ بھی کر سکتا ہے۔ اب عند الشرع حق پر کون ہے؟ بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔ بینوا توجروا سید محمد کمال احمد قادری ( گونڈوی ) ، خطیب امام مسجد .W.C.L کوریا، بلاسپور
الجواب: فی الواقع اگر زید نے تو بہ صحیحہ کر لی ہے تو اس کی اقتدا میں اس وجہ سے حرج نہیں، بشرطیکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو اور عمرو کا قول محض غلط ہے، وہ تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی