غلط خواں کو امام بنانا اور غلط قرآت والے کے پیچھے نماز نہ پڑھنے پر طعن و تشنیع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: زید کی قرآت صحیح نہیں ہے اور زید ہی امامت کرتا ہے، بکر کی قرآت صحیح ہے بکر زید کے پیچھے نماز پڑھتا ہے، گاؤں والے بہت اعتراض کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ؟ بکر زید کے یچھے نماز پڑھے یا نہیں؟ اگر پڑھتا ہے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اور نہیں پڑھتا ہے تو لوگ جو منہ میں آتا ہے بکواس کرتے ہیں، لہذا حکم شرع سے آگاہ فرمائیں تا کہ عوام کا منہ بند کیا جا سکے اور نماز بھی درست
الجواب: فی الواقع اگر زید صحیح خواں نہیں ہے تو اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کی اقتدا درست نہیں بکر زید کی اقتدا اس وجہ سے نہیں کرتا ہے تو مصیب ومشاب ہے اور اس پر طعن و تشنیع بہت سخت قبیح و باعث غضب و عذاب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی : نوری احمد خاں ڈنڈ وہ بزرگ ضلع فرخ آباد(یوپی) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۲۵/ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ