حالت مخمصہ میں دیابنہ سے مدد لینا اور دیوبندی سسرال سے تعلقات کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید سنی صحیح العقیدہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے، خود ہی نہیں بلکہ ان کے آباؤ اجداد سب سنی ہی ہیں ، زید اپنے محلہ میں ایک سنی مسجد کا امام بھی ہے، زید کی مسجد میں کچھ دیو بندی بھی نماز پڑھنے آتے ہیں لیکن زید کو ان سے کوئی سروکار نہیں ہے، اچانک زید کی طبیعت خراب ہونے پر کچھ دیو بندی نے اس کی بیماری میں مدد کی روپوں پیسوں سے، وہ ساری رقم بیماری میں صرف ہو گئی جب ہی سے محلہ کے کچھ حضرات نہ تو زید کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور نہ اس کے یعنی زید کے سلام و کلام کا جواب ہی دیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور صحیح سنی ماننے کے لئے تیار نہیں ، مدد جو کی گئی تو ایسی صورت میں تھی کہ بیماری اس قدر بڑھ چلی تھی کہ سوائے مرنے کے اور کوئی صورت نہیں تھی اور ساتھ ہی ایسے وقت میں زید کے پاس کسی قسم کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ایسی صورت میں زید پر کیا حکم ہوتا ہے؟ ساتھ ہی جولوگ سنی تصور نہیں کر رہے ہیں ان پر کیا حکم عائد ہوتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر دل کو مطمئن فرما کر خدمت کا موقع عنایت کریں۔ فقط والسلام ! نوٹ: زید امام صاحب کی شادی ہوئی تھی جس وقت اس وقت ان کے سسرال والے کا یا خسر کا عقیدہ کچھ اور تھا اور اس وقت کچھ اور ہے یعنی وہابی نکلا جہاں وہ امام صاحب جاتے ہیں بہت کم اور کھانا پینا بالکل بند لیکن امام صاحب کے بال بچے وہاں کھانا پینا آرام سے کرتے ہیں اس کی بھی تشریح فرمائیں۔عین کرم ہوگا ! خادم محمد ہاشم چمن رضوی، کانپور (یو پی)
الجواب: فی الواقع اگر حالت مخصہ تھی کہ مرض نہایت شدید ہو گیا تھا اور ان دیو بندیوں کے سوا اسے کسی سنی صحیح العقیدہ سے مدد نہ ملنے کا یقین تھا اور یہ بہت بعید ہے تو اس پر الزام نہیں، ملزم وہی لوگ ہیں جنہوں نے باوصف قدرت امام کی امداد نہ کی اور اسنے دیابنہ کا مرہون منت ہونا گوارا کیا۔ امام کی بیوی اگر دیوبندیوں کے عقائد کفریہ رکھتی ہے یا دیو بندیوں کے عقائد کو جان کر انہیں مسلمان جانتی ہے تو اس کا نکاح فسخ ہو گیا بلکہ ہمیشہ سے ایسی ہے تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا، فوراً علیحدگی فرض ہے اور تو بہ لازم ہے اور اگر نہ خود وہ دیو بند یہ ہے نہ انہیں مسلمان جانتی ہے تو نکاح قائم ہے مگر اسے وہابیہ سے ملنے دینا حرام ہے اور امام جب تک اس سے سچی توبہ نہ کرے، امامت کے لائق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ے رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ