مروجہ قوالی کی محفل میں بیٹھنے والے امام کی امامت اور عہد امامت توڑنے کا کفارہ
(۱) زید سنی قادری اور مسلک اعلیٰ حضرت کا قائل ہے اور مسجد کی امامت بھی کرتا ہے، ایک عرس بھی اس کی سر پرستی میں ہوتا ہے جس میں قوالی بھی ہوتی ہے۔ زید قوالی کا دل سے قائل بھی نہیں ہے مگر کسی وقت تھوڑی دیر کے لئے قوالی میں بیٹھ بھی جاتا ہے، اس عرس کے علاوہ کسی قوالی میں نہیں بیٹھتا ہے ۔ اب زید کے پیچھے امامت درست ہے کہ نہیں ؟ زید پر شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) زید نے کچھ لوگوں کے سامنے ایک بار یہ عہد کیا ہے کہ میں خود امامت سے انکار نہ کروں گا، اب کچھ لوگ زید کی امامت پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں جس کی بنا پر زید امامت سے علیحدگی چاہتا ہے کیا خود سے امامت سے انکار کر دے تو زید پر کفارہ لازم ہوتا ہے؟ اور کس طرح کفارہ ادا کرے؟ شریعت زید کی طرف ہے اور وہ امامت سے علیحدہ ہونے سے روکتی ہے۔ شرعی حکم سے مطلع فرما یا جائے۔ احقر امجد علی
الجواب: (1) مروجہ قوالی ناجائز وحرام ہے، اس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو سکتی اور امام مذکور پر تو بہ لازم ہے ور نہ لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر بقسم عہد مذکور کیا تو خود انکار کرنے کی صورت میں کفارہ ضرور لازم ہوگا اور کفارہ قسم میں مسکینوں کو کھانا یا پوشاک دینا ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱ار جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ