مفاد ذاتی کے لئے مسئلہ بتانے والے کی امامت کیسی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید ایک مستند عالم ہے اور حال اس کا یہ ہے کہ وہ اپنے فائدہ ونقصان کو تو خوب سمجھتا ہے اور دوسرے کے نفع و نقصان کا اس کو قطعاً احساس نہیں، اپنے خانگی معاملات میں اور بیرون خانہ مسائل میں بھی جہاں اس کا ذاتی مفاد ہوتا ہے وہاں تو وہ اپنے فائدہ کی خاطر دینی مسئلے بھی خوب بتاتا ہے اور شرعی فتویٰ بھی استعمال کرتا ہے، جیسے وراثت کے موقع پر باپ دادا کے گھر میں سے اپنا حصہ لینے کا مسئلہ ہے، اس کے لئے وہ لوگوں کو خوب مسائل سمجھاتا ہے اور شرعی فتوی دکھا کر اپنا حق لینے کی بے حد کوشش کرتا ہے، لیکن ایسا ہی معاملہ جب کسی دوسرے کا اس کے سامنے آتا ہے اور اس دوسرے کو کسی کی وراثت میں حصہ ملنے والا ہوتا ہے اور زید عالم کو اس سے کچھ مخالفت ہوتی ہے تو زید عالم ہوتے ہوئے دوسروں کے لئے نہ تو لوگوں کو دینی مسائل بتا تا ہے اور نہ شرعی فرقوں کوہی تسلیم کرتا ہے اور مسئلہ نہ بتا کر اور شرعی فتووں کو تسلیم نہ کر کے دوسرے کو اس کے حق وراثت سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ سب کچھ صرف مخالفت کی بنیاد پر کرتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر گاہے گاہے نماز پڑھاوے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ وہ اگر کسی مسجد میں جمعہ اور پنجوقتہ نمازوں کا مستقل امام ہو تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟ اور امام کے یہ مذکورہ حالات معلوم ہوتے ہوئے جو لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھیں ان کے بارے میں شرعی فیصلہ کیا ہے؟ دریافت طلب امور کا جواب باصواب عام فہم الفاظ میں کسی قدر
وضاحت کے ساتھ عنایت فرمائیں۔ نوازش ہوگی! المستفتی جمیل احمد ، بلد وانی لائن - ۱۳ الجواب: اگر یہ سب جو درج سوال ہوا، شرعی طور پر زید پر ثابت ہیں تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۶ رشعبان المعظم ۱۴۰۲ھ