نماز میں مقتدیوں کو دیکھنا اور امام کے نیاز نہ کھانے کے متعلق سوال
در میان نماز ادھر ادھر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے! امام صاحب کسی کے گھر نیا ز دیں مگر اس میں سے نہ کھا ئیں تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) پیش امام رکعت ختم کر کے اُٹھتے وقت داہنی طرف منہ پھیر کر دیکھتے ہیں کہ مقتدی اُٹھے ہیں یا بیٹھے ہیں اگر وہ اٹھے ہیں تو خود بھی اٹھ جاتے ہیں اور مقتدی بیٹھے ہوں تو خود بھی بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے امام کے پیچھے نماز صبح ہوگی یا نہیں اور ایسے امام کے لئے کیا حکم ہے؟ (۲) پیش امام کہیں کسی کے مکان پر نیاز وغیرہ دینے جائیں تو پھل، مٹھائی یا کھانا کچھ نہیں کھاتے اور اگر صاحب خانہ کھانا وغیرہ باندھ کر دے دیں تو لے آتے ہیں جب ان سے وجہ معلوم کی تو پیش امام کہتے ہیں کہ میں کچھ پڑھ رہا ہوں جس کی وجہ سے کسی کے گھر کا نہیں کھاتا، جب کہ امام صاحب ہوٹل سے چائے اور کھانا منگا کر پیتے اور کھاتے ہیں، گو کہ ہوٹل ایسے لوگوں کے ہیں جو بے نمازی اور فاسق ہیں اور اس کے بر عکس نیاز دلانے والوں کی کمائی بھی نیک اور نمازی با شرع بھی ہیں، ایسے امام کے لئے کیا حکم ہے؟ المستفتی: سرور جمال، بازارصندل خاں ضلع بریلی شریف
الجواب: (1) نماز میں منہ پھیر کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے، ایسے امام کی اقتدا ممنوع ہے اور نماز ہو جائے گی مگر بکراہت اور اعادہ واجب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں امام کو بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی طیب خاطر کے لئے کھالیا کرے اور اگر واقعی کوئی عذر مانع ہے تو خلاف اولیٰ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله