رشوت، سود، جوا اور شراب میں مبتلا افراد کے نطفے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
رشوت، سود، جوا اور شراب انحش حرام ہیں، ان کا ارتکاب فسق ہے ! فسق سے مومن ایمان سے خارج نہیں ہوتا جب تک حرام کو حلال یا بالعکس نہ جانے ! معتزلیوں کے نزدیک مرتکب کبائر اسلام سے خارج ہے! مرتکب حرام کی اولاد کا حرامی ہونا کیوں کر ثابت ہوگا؟ حرام نقد دیکھا کر اگر کوئی سامان اسی کے بدلے خریدا تو وہ بھی حرام ہے! جس کی حرام کاری منکشف ہو، ایسے کے گھر جانا ہی جائز نہیں ! کافر ، فاسق ، بدعتی اور ان کے ساتھ بیٹھنے والے سب ظالم ہیں! علمائے دین کیا فرماتے ہیں؟ زید کچہری میں کام کرتا ہے، رشوت سے گھر بھرتا ہے اور روز و نماز کا پابند بھی نہیں ، گل خاں سرحدی پٹھان ہے سود کا لین دین کرتا ہے اور روزہ نماز کا بھی پابند نہیں ،سجاد میاں کلب چلاتے ہیں ، جوا کھیلتے اور کھلاتے ہیں اور روزہ نماز کے بھی پابند نہیں، فخر عالم شراب کی بھٹی پکاتے ہیں ،شراب پیتے اور پلاتے ہیں ، روزہ نماز کے بھی پابند نہیں۔ ظاہر ہے یہ چار فعل حرام قطعی ہیں، ان کے نزدیک جانا مسلمانوں کے لئے درست نہیں ، ان لوگوں کا روزہ نماز بھی قابل قبول ہونا مرضی ہی پر منحصر ہے، اس سے بھی ہمیں بحث نہیں ، دریافت طلب مسئلے صرف تین باتوں پر ہیں۔ یہ کہ عالم دین سے یہ سننے میں آیا ہے کہ ایسے لوگوں کے نطفے میں فرق پڑ جاتا ہے بلکہ نطفہ اولا دحرامی کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ کیا یہ حدیث کی روشنی میں بالکل صحیح ہے؟ دوسری بات غور طلب یہ ہے کہ یہ چاروں بھی کبھار نماز بھی پڑھاتے ہیں، کیا
ان کے پیچھے مقتدی کی نمازیں درست ہو جائیں گی ؟ تیسری بات یہ ہے کہ ان کی دعوت وغیرہ میں شرکت کر کے کھانا کھایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ الجواب: بلا شبہ یہ چاروں افعال مذکورہ فی السوال انحش کبائر سے ہیں، ایسا کرنے والے سخت گنہ گار مستوجب عذاب نار ہیں ، ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے مگر ہم اہل سنت و جماعت کے نزدیک کبائر کا مرتکب اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ خلافا للخوارج والمعتزلة فالخوارج كفروه والمنزلة بين المنزلتين نزلوه، بلکہ جب تک ان کبائر کو حلال نہ جانے وہ عند اللہ وعند الناس مسلمان ہی ہے، اس کا نکاح بدستور قائم ہے تو اس کی اولا د حرامی کیوں کر ہوگئی؟ ایسی کوئی روایت میری نظر سے نہیں گزری کہ ایسے لوگوں کے نطفہ میں فرق پڑ جاتا ہے اور اولا دحرامی کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے، اگر دعوت کے کھانے میں کوئی حرام رقم صرف کی گئی اس طرح کے سامان خوردونوش کے خریدنے میں عقد و نقد جمع ہوئی یعنی وہی حرام روپیہ دکھا کر اس کے بدلے خرید کر وہی حرام روپیہ دیا تو وہ کھانا بھی حرام ہے اور اگر وہ سامان ادھار خریدا یا کسی پاک آمدنی والے سے قرض لے کر سامان خریدا تو وہ کھانا حلال ہے۔ یہ تو کھانے کا حکم ہے مگرایسوں کے یہاں جانا ہی جائز نہیں۔ قال تعالى : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ۔ شیطان اگر تجھ کو بھلا دے تو ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر نہ بیٹھ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: الظالمين يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع (۲) کسی کا نام استفتاء میں نہ لکھنا چاہئے بلکہ زید وعمر ولکھا جائے ۔ واللہ تعالی اعلم (۱) سورۂ انعام-۶۸ (۲) تفسیر احمدی پاره ۷ ص ۲۵۵ ، مکتبه رحیمیه، دیوبند فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله