شرعی مسئلہ بتانے پر خفا ہو کر مسجد چھوڑنے والے کا حکم
بُرائی کریں گے؟ آپ اس کو جائز سمجھیں گے؟ جو شریعت کا مسئلہ ہے اس کو ہم ضرور بتائیں گے، بتانا ہمارا کام ہے، ماننا یا نہ ماننا آپ کا کام ہے، اتنے میں ایک صاحب مسجد سے خفا ہو کر چلے گئے ، آٹھ ماہ ہو گئے مسجد کونماز پڑھنے نہیں آئے یہاں تک کہ جمعہ کی نماز بھی پڑھنے نہیں آتے ہیں اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نماز پڑھنے نہیں آئیں گے۔ کیا ایسا مسئلہ بتانا، ایسی تقریر کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہو تو تقریر کرنے والے کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ اور جنہوں نے مسجد میں آنا جانا بند کر دیا اور کہہ دیا کہ ہم مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آئیں گے ان کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں ؟ فقط !
الجواب: مولوی صاحب نے صحیح مسئلہ بتایا، ان پر الزام نہیں ، جو صاحب خفا ہو کر چلے گئے وہی ملزم ہیں، انہیں جائز نہیں کہ شرعی مسئلہ کو ترک اقتدا کی بنیاد بنا ئیں، ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱/رجب المرجب ۱۴۰۰ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی