ایک آنکھ والا بھی لائق امامت ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: موضع بنڈیا کی مسجد میں پیش امام جن کو ایک آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا ہے اور بآسانی چلتے پھرتے ہیں جن کو پاکی اور ناپاکی کا بھی امتیاز ہے اور اردو بھی جاننے والے ہیں اور مسائل سے بھی واقفیت رکھتے ہیں، قرآن پاک بھی بآسانی پڑھتے ہیں اور عربی کے اچھے جاننے والے ہیں ۔ایسی حالت میں نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟ لمستنتی : نبی احمد بن بھورے محلہ بنڈیا، پوسٹ تلیا پور ضلع بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ان کی اقت را بلا کراہت درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۲۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
قرآن صحیح نہ پڑھنے والے شخص کی امامت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
شرعی مسئلہ بتانے پر خفا ہو کر مسجد چھوڑنے والے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کو غلط فعل کرتے دیکھنے کے بعد اس کی اقتدا اور شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام پر لگائے گئے بہتان کی شرعی حیثیت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
دنیوی رنجش کی بنا پر افترانہ کرنا جائز نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ