حضور ﷺ کے وسعت علم اور اللہ تعالی کی طرف سے دیئے گئے علوم غیبیہ کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۳) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کتنا علم دیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ہو ۔ اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضور کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں وہ کیسا ہے؟ اور جو چوپائے سے مشابہت دے وہ کون سا فرقہ ہے؟ کیا وہ مسلمان رہے گا؟ لمستفتی . فقیرمحمد غلام رسول کیئر آف ناز پان ہاؤس ، موضع بھارت کرام پوسٹ ڈاھبوئی ضلع باندہ، گجرات
(۳) اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جملہ انبیائے کرام کے علوم و معارف عطا فرمائے اور آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے قیامت تک جو کچھ ہوا جو ہو رہا ہے جو ہو گا سب آپ پر منکشف فرما دیا اور اس سے زیادہ وہ عطا کیا جو کسی نبی کسی فرشتہ کو نہ ملا۔ قال الله تعالى : وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ . یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے (۱) وقال عز وجل: تبیانا لِكُلِّ شَيْءٍ (٢) یعنی ہم نے تم پر قرآن اتارا ہر شے کا روشن بیان اور فرماتا ہے، رب تعالیٰ : فَأَوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (۳) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف وحی کی جو وحی کرنا چاہی۔ اور فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : علمت علوم الاولين والآخرين ،، مجھے اولین و آخرین کے علوم دئے گئے ۔ یہ عقیدہ اہل سنت ہے اور جو مطلقا علم غیب کی نفی حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یا کسی نبی علیہ السلام سے کرے وہ کا فر ہے اور یہ کہنا کہ حضور کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں اہانت و نفی علم غیب میں صریح ہے تو اس قول کے کفر ہونے میں کیا شبہ ہے اور چوپایوں سے علم نبی کو تشبیہ دینا بے شک کفر اور قائل اور اس کے ہم نوا اور اسے مسلمان جاننے والے سب کافر و مرتد بے دین ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم (1) سورة النساء: ١١٣ (٢) سورة النحل : ٨٩ (۳) سورة النجم: ١٠