اللہ تعالیٰ کی صفت علم کے متعلق گستاخانہ کلمات اور مشرکین کی مذہبی تقاریب میں شرکت کا حکم
یہ کہنا کہ للہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے مگر میاں بیوی کی صحبت سے غافل ہے، کفر ہے۔ ہندوس اللہ کے یہاں جاکر رام چمن کی کہانی سننا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسائل ذیل میں کہ (1) زید ایک محلہ کا چودھری ہے اور محلہ کے ہر مقدمہ کا فیصلہ انھیں سے کیا جاتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ خدا وند قدوس کو ہر چیز کا علم ہے مگر ایک چیز سے غافل ہے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ کس چیز سے خداوند قدوس غافل ہے؟ تو زید نے جواباً کہا کہ میاں بیوی کی صحبت سے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بیوی نہیں ہے نیز زید یہ بھی کہتا ہے کہ ہمارے بزرگان دین نے جو کام کر دکھائے ہیں ہمارے نبی نہیں کر سکے ہیں پوچھنے پر جواب دیا کہ مثلا غوث پاک نے مردے کو زندہ کیا ہے مگر ہمارے نبی نہیں کر سکے ہیں۔ لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ کلمات کفریہ ہیں یا نہیں؟ اور قائل پر کیا حکم ہے؟ (۲) جو شخص مشرکین کے یہاں جا کر رام پچھن کی کہانی اور ان کے واقعات کو سنتا رہے اور نماز کی پابندی نہ کرے اور کہنے پر ناراضگی کا اظہار کرے اس شخص پر حکم شرع کیا ہے؟ بینوا توجروا لمستفتی: عبدالواحد اشرفی
(1) اس شخص کی دونوں باتیں کفری ہیں اور اللہ عز وجل اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سخت اہانت و تنقیص پر مشتمل ہیں اس پر فرض ہے کہ تو بہ وتجدید ایمان کرے اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ور نہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے کہ مجبور ہوکر تو بہ کرے۔واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہنود کے پرکھوں کی کہانی اور واقعات سننا حرام بد کام بدانجام ہے اس کے مرتکب پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ ہدیۃ المہندین چلی میں ہے: ،، ”موافقة الكفار في اقوالهم وافعالهم وايامهم الخاصة كفر (۱) اور اگر ان واقعات کو سنا تحسین کے ساتھ ہے تو یہ دوسری وجہ اس کے کفر کی ہے جو اشد واشنع ہے۔ ہندیہ میں ہے: وو وبتحسين امر الكفار اتفاقا- الخ (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم