شعر 'وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہوکر' کی شرعی حیثیت اور کفر کا حکم
کیا حکم شرع ہے مندرجہ ذیل شعر کے بارے میں بیان فرمائیے ۔ وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہوکر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہوکر اگر یہ شعر خلاف شرع ہے تو پڑھنے اور سننے والوں کا کیا حکم ہے؟ سائل : کبیر احمد ، ساکن موضع جوکھن پور ڈاکخانہ ر چھا روڈ ضلع بریلی شریف
الجواب: اس شعر کا ظاہر حلول و اتحاد و عینیت خالق و مخلوق ہے اور یہ بلا شبہ کفر ہے جس نے بھی ظاہری معنی اعتقاد کئے شعر پڑھنے والا یا سننے والا وہ بے شک کا فر ہے تو بہ و تجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والوں پر تجدید نکاح بھی ضرور اور اگر اس معنی کا اعتقاد نہ کیا تو تکفیر نہیں البتہ عوام کے سامنے ایسے اشعار پڑھنا سخت حرام ہے کہ بدخواہی عوام ہے اور یہ شعر ایک تاویل صحیح رکھتا ہے اور قائل اس کا ایک مردحق آگاہ ہے جس سے غلبہ وشوق و استغراق میں یہ شعر نکلا ہے لہذا اس کی تکفیر کی طرف راہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله