اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ (قربان، فدا، لا ابالی، حاضر و ناظر وغیرہ) استعمال کرنے کا حکم
قربان فدا، نچھاور ، عاشق معشوق ، حاضر و ناظر لا ابالی وغیر ہا کا اطلاق جناب باری تعالی میں حرام حرام اشد حرام ہے، عاشق الرحمن اور معشوق اللہ، عاشق الہی نام رکھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (۱) خداوند قدوس کی شان میں یہ الفاظ بولے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو بولنے والے پر اور سننے والے پر تو بہ لازم ہے یا نہیں؟ قربان ، فدا، نچھاور، عاشق ، معشوق، حاضر ناظر ، لا ابالی ، صاحب، میاں، لفظ شکایت، اور ہوس تھی دید کی معراج کا بہانہ تھا، اور یہ شوق ہے، اے خدا میں بھی اور میرے ماں باپ بھی تیری لونڈی اور غلام ہیں ۔ از روئے شرع صحیح جواب عنایت فرمائیں۔
(1) معاذ اللہ رب العلمین جلت عظمتہ وعزت عزتہ کی شان رفیع میں قربان فدا نچھاور اور جن الفاظ سے متبادر و عرف جاری ہیں بلکہ محض دلالت لفظ سے محبوب پر مرمٹ جانے ، فنا ہو جانے کا اطلاق ہو جناب باری تعالیٰ میں حرام حرام اشد حرام بلکہ اپنے ان معانی ظاہرہ متبادرہ کی بنا پر کفر میں صریح اور اگر معاذ اللہ سامعین نے یہی معنی مراد لیا جو اس سے متبادر ہیں تو کفر متعین اور قائل وسامع دونوں پر تو بہ تجدید ایمان و تجدید نکاح بیوی والوں پر بہر کیف لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اصول الدین عند الامام ابی حنیفہ میں ہے: دو من وصف الله تعالى بمعنى من معاني البشر فقد کفر - اه (۱) اور عاشق و معشوق میں حرج نہیں جبکہ وہ معنی مراد نہ لیں جو جانب بشر میں مراد ہوتے ہیں اور حاضر ناظر کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لئے ناجائز ہے جبکہ حضور سے حضور مکانی اور نظر سے آنکھ سے دیکھنا مراد نہ لیں ورنہ یہ بھی کفر ہے اور بعض فقہائے کرام نے اسی لئے اس کو کفر بتایا، اگر چہ مختار یہی ہے کہ کفر نہیں حضور بمعنی علم اور نظر بمعنی مطلق رویت شائع ہے۔ در مختار میں ہے: یا حاضر ویاناظر لیس یکفر (۲) رد المحتار میں ہے: ”فان الحضور بمعنى العلم شائع (مايكون من نجوى ثلاثة الاهو رابعهم) (المجادلة) والنظر بمعنى الرؤية (الم يعلم بان الله يرى) (العلق) فالمعنی یا عالم من يرى بزازية (۳) لا ابالی کا اطلاق سوء ادب و کفر ہے اور صاحب کا اطلاق نہ چاہئے یونہی میاں کا اطلاق بھی منع ہے اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کرنا حرام ہے اور ہوس و بہانہ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لئے کفر ہے جس سے تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے اور اللہ تعالیٰ کے لونڈی وغلام کہنے میں حرج نہیں جبکہ بمعنی مملوک کہے اور بندہ اور کنیز کہنا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله