تبلیغی جماعت کے عقائد اور امکان کذب الہی کے عقیدہ پر رد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: تبلیغی جماعت نکلی ہے اور صرف نماز کی تبلیغ کرتے ہیں اور لوگوں کو بلا کر نماز پڑھاتے ہیں اور کلمہ کی دعوت دیتے ہیں اور مسلمانوں کو بارے دیگر نیا کلمہ پڑھاتے ہیں اور آدمی کا نام کاپی میں لکھ کر اسے امیر جماعت بنادیتے ہیں اور جوان طبقہ کے لوگ مسجد میں رہتے ہیں وہ مسجدوں کو ایسا بنا لیتے ہیں جیسا کہ اپنا گھر ، اور اس میں خوب کھاتے پکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم لوگ جھگڑ افساد نہیں کرتے جیسا دیکھتے ہیں ویسا کرتے ہیں ایسے افعال ان لوگوں کا کرنا کیسا ہے؟ لمستفتی :عبدالحفیظ انوری پوسٹ لکھی پوروا سی رام گنج دیناج پور
الجواب: تبلیغی جماعت دیوبندیوں کا بہروپ ہے ان کے عقائد وہی ہیں جو د یو بندیوں کے ہیں اور دیو بندی اور جملہ وہابیہ کا عقیدہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے۔ دیکھو رسالہ (رسالہ یکروزی، اسمعیل دہلوی) (۱) اور یہ کہ امکان کذب کا مسئلہ آج کسی نے نیا نہیں نکالا دیکھو ( براہین قاطعہ ، رشید احمد گنگوہی و خلیل احمد انبیٹھوی ) (۲) (1) (۲) رساله یکروزی مترجم ص ۱۴۵ رساله یکروزی فارسی ص ۱۸ ۱۷ ، فاروقی کتب خانه ملتان (ماخوذ از فتاوی رضویه مترجم ج ۱۵، ص ۱۸۲ ، ۱۸۱ مطبع برکات رضاپور بندر گجرات) براهین قاطعه على ظلام انوار الساطعه ص ١٠ ، مطبع كتب خانه امدادیه دیوبند اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سے ہوتی آئی ہے کہ خدا کا کذب ممکن مانتے ہیں اور یہ سراسر بہتان ہے جس کے بطلان پر ہر دور کے علماء کی عبارات و تصریحات شاہد عدل ہیں۔ اور انہی دیو بندیوں کا عقیدہ ہے کہ: ایسا علم ، جیسا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہے۔ تو ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے، حضور کی کیا تخصیص ؟ ( دیکھو حفظ الایمان، اشرف علی تھانوی)(۱) اور انھیں کا عقیدہ ہے کہ شیطان کا علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ ہے“۔ (دیکھو براہین قاطعہ ) (۲) اور حضور کے آخرالزماں ہونے کی بات نہیں مانتے اور عوام کا خیال بتاتے ہیں ۔(۳) اور حضور کے زمانہ میں یا بعد زمانہ نبوی کسی نبی جدید کے مبعوث ہونے سے خاتمیت محمدی میں ان کے نزدیک خلل نہیں آئے گا۔ (دیکھو تخدیر الناس، قاسم نانوتوی )(۴) اور یہ کفریہ عقائد ہیں جن کی بنا پر علمائے حرمین شریفین و مصر و ہند نے ایسا کا فرفرمایا کہ جوان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔ (دیکھو حسام الحرمین ) (۵) اور یہی فتویٰ جماہیر علمائے ہند کا ہے۔ (دیکھو الصوارم الہند یہ ) اور ان کا بہانہ کہ ہم کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہیں، نرا فریب ہے اور اس میں ان کے کافر و بے دین اپنے منھ آپ لا مذہب ہونے پر کافی شہادت ہے کہ لا مذہب وہی ہے جس کا کسی مذہب سے تعلق نہ ہو تو اب ان سے کہنا چاہئے تھا کہ بے ایمانو! پھر کیسے کلمہ پڑھواتے ہو اور کس نماز کی تبلیغ کرتے پھرتے ہو ، دور ہو! تمہیں ان باتوں سے کیا کام اور مذہب کی باتوں کو علی الاطلاق بلا تفریق حق و باطل جھگڑا اور فساد بتانا کفر ہے۔ غرض اپنی دیوبندیت پر بے چاروں نے پردہ ڈالا تو لا مذہب اور بد مذہب کی پناہ لی۔ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ مگر اسے کیا کہئے کہ اس جماعت کا بانی الیاس صاف واشگاف کہ گیا کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے بڑا کام کیا میرا جی چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی ہو اور تبلیغ میری۔ (دیکھو ملفوظات الیاس) اور دینی دعوت، ابوالحسن علی ندوی میں ہے کہ الیاس نے اپنے ایک خاص آدمی سے کہا کہ میرا مدعا کوئی نہیں سمجھتا لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک صلوۃ ہے واللہ یہ تحریک صلوٰۃ نہیں بلکہ ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے۔ اور یہ بھی ان کا بہروپ ہے کہ جہاں جیسا دیکھتے ہیں ویسا ہی کرتے ہیں۔ لہذا ان سے ہر لمحہ احتر از لازم ہے اور انھیں اپنی مساجد سے باز رکھنا ضروری۔ در مختار میں ہے : " و يمنع منه كل مو ذ - الخ تفصیل کے لئے تبلیغی جماعت ، علامہ ارشد القادری دیکھیں۔ واللہ تعالی اعلم ملخصا (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ