تارک نماز کی تکفیر سے متعلق حدیث کی وضاحت
سوال
جو مسلمان جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز چھوڑ دے وہ مطلق کا فر ہے اور حدیث بیان کی: ”من ترك الصلوة متعمدا فقد كفر“ عرض یہ ہے کہ یہ حدیث شریف کی قسموں میں سے کون حدیث ہے اور اس کا حکم عام ہے یا اور کوئی شکل ہے؟ رقم فرما ئیں اور یہ مسئلہ بیان کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے جبکہ زید نے مطلق کا فر ہو جانے کا حکم دے دیا۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
یہ حدیث مشہور ہے اور ہمارے علمائے احناف کے نزدیک یہ زجر و توبیخ پر محمول ہے یعنی ڈرانے (کے لئے ہے، اس سے مراد کافر ہو جانا نہیں)۔ واللہ تعالی اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۱۷۲–۱۷۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اللہ تعالیٰ کے لئے مشورہ ماننے کے قول کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
نماز کے علاوہ دیگر فرائض کا انکار کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
تبلیغی جماعت کے عقائد اور امکان کذب الہی کے عقیدہ پر رد
باب: کتاب العقائد
آیت کریمہ ”استعينوا بالصبر والصلوة“ کے غلط ترجمہ پر گرفت
باب: کتاب العقائد
عاشق الرحمن، معشوق اللہ اور عاشق الہی جیسے نام رکھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد