اللہ تعالیٰ کے لئے مشورہ ماننے کے قول کا شرعی حکم
سوال
زید نے اپنی تقریر میں بیان کیا ہے : ”اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا چاہا تو پوچھا اور ملائکہ سے مشورہ لیا ۔ رب کے لئے ”پوچھنا اور مشورہ لینا“ کہنا کیسا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
اللہ تعالیٰ کلیات و جزئیات کا عالم ہے اور علم اس کا سب کو محیط ، غیر متناہی بالفعل ہے، بلکہ اس کے لئے ہر ہر ذرہ میں معلومات غیر متناہیہ بالفعل غیر متناہیہ ہیں، اسے نہ پوچھنے کی حاجت نہ معاذ اللہ ملائکہ سے مشورہ کی ضرورت ہے ، نوع بشر کی فضیلت ملائکہ پر جتانے کے لئے ان پر اپنا ارادہ ظاہر فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۱۷۲–۱۷۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
تبلیغی جماعت کے عقائد اور امکان کذب الہی کے عقیدہ پر رد
باب: کتاب العقائد
تارک نماز کی تکفیر سے متعلق حدیث کی وضاحت
باب: کتاب العقائد
عاشق الرحمن، معشوق اللہ اور عاشق الہی جیسے نام رکھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
نماز کے علاوہ دیگر فرائض کا انکار کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ (قربان، فدا، لا ابالی، حاضر و ناظر وغیرہ) استعمال کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد