ایک شعر کی تشریح، خلافت، نیابت عن الغیر کا نام ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: خدافرماتا ہے قرآں کے اندر میرے محتاج ہیں پیر و پیمبر خدا فرماتا ہے قرآں کے اندر مرے مختار ہیں پیر و پیمبر اگر یہ غلط ہیں تو اسکا پڑھنا اوران پر داد بنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا المستفتي فخر الدین احمد ناگپوری جامعہ اشرفیہ مبارک پور
الجواب: پہلا شعر قرآن کریم پر افترا اور انبیاء و اولیاء کی اہانت پر مشتمل ہے۔ قرآن نے مطلق بلا تخصیص انبیاء واولیاء فرمایا ہے: وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ (۲)۔ اللہ بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اس میں کسی قسم کی تخصیص نہ فرمائی ۔ تو انبیاء و اولیاء کی تخصیص از خود کرنا قرآن پر افتراء ہے جس سے مقصود اہانت انبیاء اولیاء ہے۔ اور اس اہانت آمیز جملہ کی نسبت قرآن کریم کی طرف نقص دینی ہے۔ قرآن کریم نے عام لوگوں کے لئے تو وہ فرما یا جو گذرا اور انبیا کے لئے یوں فرماتا ہے: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۔ (1) میں زمین پر اپنا نائب بنانے والا ہوں إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً ۔ (r) اور میں تجھے (ابراہیم علیہ السلام کو ) امام بنا تا ہوں ۔ أنه يَهْدُونَ بأمر كا (3) ہم نے ان میں سے کچھ کو امام بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت دیتے ہیں أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ (۲) لوگوں کو خدا نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غنی کر دیا سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ (ه) اب دے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کے لئے فرمایا: جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ (1) ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ کیا (1) سورة البقرة:٣٠ (۲) سورة البقرة : ۱۲۴ (۳) سورة السجدة: ۲۴ (۴) سورة التوبة : ۷۴ (۵) سورة التوبة: ۵۹ (1) سورة اليونس: ۱۴ اور خلافت ، نیابت عن الغیر کا نام ہے اور نیابت عن الغیر کبھی متخلف کی موت کے سبب اور کبھی مستخلف کی جانب سے تکریم خلیفہ کے لئے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو اسی وجہ آخر الذکر پر خلافت سے نوازا ہے کما فی المفردات للامام الراغب الاصفہانی یہاں سے ظاہر کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و اولیاء کومختار و ماذون فی التصرف فرمایا ہے۔ اور ان کے ماسواء کو انکا محتاج فرمایا ہے۔ تو دوسرا شعر صحیح ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔ فقط، والسلام فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۲۹ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ