خدا کے لامکاں ہونے، کعبہ کے بیت اللہ ہونے اور حدیث صورت کی تشریح
(۲) ساتھ ہی ساتھ حضور والا سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ ذرا اس معمے کو بھی از روئے شرع تحریری نوبت بہم پہنچائیں کہ خدا لا مکاں ہے کا کیا مطلب ہے۔ اور کعبہ خدا کا گھر ہے کیا مطلب اور ان الله خلق آدم علی صورتہ کی تشریح بھی فرمادیں تو عین نوازش ہوگی ۔
(۲) اللہ تعالیٰ زمان ومکان سے منزہ ہے وہ کسی مکان میں نہیں بلکہ وہ مکان و زمان سے پہلے بھی تھا اور زمان و مکان کی فنا کے بعد بھی رہے گا۔ قال تعالیٰ: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ عام کتب عقائد میں ہے: لا یجری علیه زمان ولا يحويه مکان تو خدا کا گھر اس معنی پر نہیں کہ خدا معاذ اللہ اس گھر میں رہتا ہے بلکہ تعظیم کے لئے خدا کا گھر کہتے ہیں اور ایسی نظیر ہمارے محاورہ میں بھی ہے۔ اکثر بولتے ہیں یہ میرا گھر ہے اگر چہ آدمی وہاں پر نہیں رہتا بلکہ مثلا کرایہ دار وہاں رہتا ہے تو اس مثال میں اضافت اختصاص و ملک کے لئے ہے اس طرح خدا کا گھر میں اضافت تعظیم کے لئے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور حدیث’ ان الله تعالى خلق آدم على صورته‘ میں صورت خدا مراد نہیں ہے کہ وہ صورت سے پاک ہے بلکہ ضمیر آدم کی طرف راجع ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو ان کی خاص صورت پر پیدا فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم