کعبہ معظمہ کو مقبرہ آدم تصور کرنے اور حطیم میں مرقد اسماعیل علیہ السلام کی تحقیق
محترم مفتی صاحب قبلہ، بریلی شریف ! سلام مسنون عرض اینکہ ذیل میں چند سوالات درج ہیں امید کہ جواب باصواب مرحمت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔ (۱) زید کعبہ کو مقبرہ آدم تصور کرتا ہے اور مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے۔ (الف) سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ہجرت قرب کعبہ یہ کہتے ہوئے رخصت ہورہے ہیں کہ اے کعبہ تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ اس عبارت کو حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام میں یوں لکھا ہے۔ تیرے فرزنداب مجھے کو یہاں رہنے نہیں دیتے تیری پاکیزگی کو مادری کہنے نہیں دیتے خدائی عارضی ہے پھر بھی دل کو بیقراری ہے کہ تو اور تیری خدمت مجھ کو دنیا بھر سے پیاری ہے (ب) امام اہل سنت فاضل بریلوی طیفیملیہ نے حدائق بخشش حصہ اول میں یوں تحریر کیا ہے: غور سے سن تو رضا کعبے سے آتی ہے صدا میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو اس شعر میں پیارے کا لفظ الفاظ رحمانی کے پردے میں حفیظ جالندھری صاحب کی تحریر کو تقویت دے رہی ہے۔ ( ج ) اعلیٰ حضرت ہی دوسری جگہ یوں رقمطراز ہیں: کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نئی دلہن یہ رشک آفتاب وہ عزت قمر کی ہے جب وہ دلہن روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو دلہن بھی روضہ ہی ہے۔ (د) نثر میں احکام شریعت حصہ اول میں اعلیٰ حضرت یوں تحریر فرماتے ہیں حطیم مبارک روضہ اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام ہے پھر کچھ آگے چل کر دوسرے صفحہ پر لکھتے ہیں اور غور کرو تو پوشش کعبہ معظمہ میں بھی ایک بڑی حکمت یہی ہے جن کی حکومت عظمت اولیاء سے خالی ہے اس حقیقت سے نابلد ہیں ۔ (ه) اعلیٰ حضرت نے حطیم مبارک کو روضہ اسماعیل بتلا یا لیکن احادیث کریمہ میں یہ بات تفصیل سے ذکر ہے کہ حطیم مبارک بھی کعبہ معظمہ ہی ہے اور غور کرو تو پوشش کعبہ معظمہ میں ایک بڑی حکمت یہی ہے۔ روضہ آدم علیہ السلام کی جانب واضح اشارہ ہے۔ (1) اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ زید کے مندرجہ بالا دلائل کہاں تک درست ہیں۔ اور حفیظ جالندھری نے جو لفظ فرزند لکھا ہے یہ کس کتاب سے اخذ کیا گیا ہے اور امام اہل سنت نے جور وضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارے کے لفظ سے خطاب کیا ہے یہ کس کتاب سے ماخوذ ہے۔ المستفتی: محمد عثمان غنی قادری، اچک پھول پوسٹ بڑسری جا گیر ضلع بلیا، یوپی
(۱) یہ سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کی اختراعی بات نہیں بلکہ جملہ محد ثین کرام کا اجماعی قول ہے پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے روضہ اسماعیل علی نبینا وعلیہ السلام کا اطلاق حطیم شریف پر نہیں کیا ہے بلکہ علمائے کرام سے یہ نقل فرمایا ہے کہ حطیم کے قریب اور ایک قول پر حجر اسود اور زمزم کے بیچ میں، مرقد اسماعیل علیہ السلام اور ستر انبیاء علیہم السلام کی قبور ہیں تو یہ اعلیٰ حضرت پر افترا ہوا کہ انہوں نے حطیم کو روضہ اسماعیل فرمایا ہے اعلیٰ حضرت نے احکام شریعت خواہ فتاوی رضویہ میں ایسانہ لکھا۔ اور حطیم کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے اور اس میں مرقد اسماعیل علی نبینا وعلیہ السلام بھی ہے اور ان دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے نہ اس میں مرقد اسماعیل علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ہونے سے کعبہ کا انکار لازم آتا ہے۔ اور پوشش کعبہ سے استدلال زید کی اختراعی بات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اشعار مذکورہ سے بھی اس کا مدعی حاصل نہیں ہوتا واللہ تعالیٰ اعلم اور فرزند سے مکہ معظمہ کے باشندے مراد ہیں جنہیں فرزند مکہ سے تعبیر کیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم