اللہ تعالیٰ بیوی بچے سے منزہ ہے ، روح کی اضافت اللہ کی طرف برائے تعظیم ہے
بخدمت حضرت مولینا مفتی اختر رضا خاں صاحب قدس سرہ العزیز السلام علیکم بعد آداب کے عرض خدمت کرتا ہوں آج کل ریڈیو سے عیسائی لوگ اپنا تبلیغی مشن چلا رہے ہیں اس سلسلہ میں ایک صاحب نے ہم سے کہا کہ یہ لوگ عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ہم نے کہا یہ غلط ہے اور کفر ہے ایسا بولنا ، اس بات کو سنکر ہمارے نام سے ایک خط جبل پور لکھا جس کا پادری نے ہم کو یہ جواب دیا برائے مہربانی مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ کا طالب المستفتی : شیخ سراج الدین صدیقی قادری
الجواب: اللہ تبارک و تعالیٰ بیٹے اور بیویوں سے منزہ ہے وہ خود فرماتا ہے: (الى يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ) ۔ (۱) اللہ تعالیٰ کے لیے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی بیوی نہیں اور فرماتا ہے: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَلا اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَهُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدُه . (۲) اے محبوب ! تم فرما دو کہ اللہ ایک ہے نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا نہ کوئی اس کا ہمتا ہے۔ (1) سورة الانعام: ١٠١ (۲) سورة الاخلاص نیز فرماتا ہے: وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللهِ وَقَالَت النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا۔ یعنی یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانیوں نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ بات اپنے منھ سے کہتے ہیں اور کافروں کی بات کی مشابہت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹا ماننے والوں کے لیے تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے: مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ولا لا يَابِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا۔ یعنی بڑی بات ہے جو ان کے منھ سے نکلتی ہے اس کا علم نہ انہیں ہے نہ ان کے باپ داداؤں کو محض جھوٹ بولتے ہیں۔ الغرض قرآن پاک جگہ جگہ نئی ولد فرماتا ہے تو قرآن عظیم پر اس عیسائی کا یہ تہمت لگانا کہ قرآن نے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا فرمایا ہے بہتان ہے اسی طرح انجیل وہ جواللہ نے اپنے بندے عیسی علیہ السلام پر اتاری اس میں ہرگز اس عقیدے کا پر نہیں اس میں وہی ہے جو قرآن عظیم نے حضرت عیسی علیہ السلام سے حکایت فرمایا۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيّاً وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَياه یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے عالم میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب انجیل دی اور نبی بنایا اور برکت والا کیا میں جہاں رہوں اور نماز و زکوۃ کا مجھے حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔ عیسائی اپنے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے حکم کے برخلاف انہیں خدا کا بیٹا اور خدا کہتے ہیں، بقول ان کے خدا ہو گیا اور جسے ان کے بقول سولی دی گئی اس جگہ عیسائی کا روح اللہ سے استدلال کرنا اور قرآن کا نام لینا محض فریب ہے، قرآن صاف صاف نئی ولد فرمارہا ہے اور اسے کفر فرمارہا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنا بندہ فرما رہا ہے تو قرآن کی رو سے انہیں خدا کا بیٹا کہنا کفر ہے اور خدا کی الوہیت کے منافی ہے، عیسی علیہ السلام کی عبودیت کے مخالف ہے کہ جو عبد ( بندہ) ہوگا وہ بیٹا نہیں ہوسکتا اور بیٹا باپ کا عبد ( بندہ) نہیں ہوسکتا بلکہ عیسائی پر خود اس کے منھ کفر عائد ہوتا ہے کہ جب وہ بیوی ماننا کفر بتارہا ہے اور وہ بیٹے کا سبب ہے تو بیٹا مان کر بیوی مانا ضرور ہے اور عیسائی حضرت مریم کو خدا کی بیوی نہیں مانتے ( بیوی ماننا کفر ہے جو خود اسے تسلیم ہے ) اس لیے قرآن نے فرمایا کہ اس کا بیٹا نہیں وہ بیوی سے منزہ ہے۔ رہا رُوح الله قرآن کا حضرت عیسی علیہ السلام کو فرمانا تو اس سے ہرگز یہ عقیدہ باطلہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ وہاں روح کی اضافت اللہ کی طرف تعظیم کے لیے ہے جیسے ناقةُ الله “ میں اور بیت اللہ میں ۔ (1) اور عیسائی نے جو یہ کہا کہ وہ روح اللہ سے پیدا ہوئے تو اسے لازم ہے کہ وہ تمام انبیاء تمام انسانوں بلکہ تمام جانوروں کو خدا کی اولاد کہیں کہ ہر جاندار میں اللہ کی پیدا کی ہوئی روح ہے بالجملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے زیادہ تعجب خیز نہیں کہ وہ بے ماں باپ کے پیدا ہوئے تو ان کی فاسد بنیاد پر حضرت آدم بھی خدا کے بیٹے ہوئے ، لا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اور بد مذہب کے فریب سے پناہ دے ان کی کتابیں ایسی ہی سفاہتوں اور ضلالتوں سے بھری ہوئی ہیں ان کا مطالعہ جائز نہیں کہ تباہی ایمان وعقیدہ کا غالب گمان ہے اور مسلمان کو اللہ ورسول کا فرمان بس ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الشمس : ۱۳ / الهود: ۶۴/ الاعراف: ۷۳