تین دن تک 'تینوں طلاق ختم ہو گئی' کہنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی منکوحہ بیوی کو ایک روز کہا آج سے تینوں طلاق ختم ہوگئی دوسرے دن زید نے اپنی بیوی کو کہا آج سے تینوں طلاق ختم ہوگئی تیسرے دن زید نے اپنی بیوی سے نشے کی حالت میں کہا آج سے تینوں طلاق ختم ہوگئی لہذ اشر عا طلاق واقع ہوئی یا نہیں اگر طلاق واقع ہوئی تو کون سی طلاق واقع ہوئی؟ فقط ۔ والسلام مع الاکرام المستفتی: عبدالقدوس رضوی مقام و پوسٹ بادم بھا یا بڑکا گاؤں ضلع ہزاری باغ ( بہار )
الجواب: زید کی بیوی پر پہلے ہی روز تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع طلاق دیدے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عدت کے بعد اگر چاہے تو پہلے سے نکاح کرے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی