بغیر اضافت کے لفظ طلاق کہنے سے وقوع طلاق کا حکم اور اضافت کا قرینہ
مفتی اعظم ہند علامہ اختر رضا خاں صاحب میں نے ایسے بھی نہیں کہا: ”جا تجھے طلاق دیتا ہوں ۔ مفتی صاحب میں اس کلمہ شریف کی قسم کھا کر کہتا ہوں میرا ارادہ طلاق کا نہیں تھا۔ بیوی نے کہا تجھ کو فوجیوں سے پکڑ وادوں گی اس خوف و ڈر کے مارے میری زبان سے یہ الفاظ نکل گئے جو اس سوال پر لکھے ہیں : طلاق ، طلاق ، طلاق ، طلاق کہ دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد بیوی میرے پاس آٹھ دن رہ چکی تھی اور میں اپنی بیوی سے ہمبستر بھی ہو چکا۔ ایک میری سالی کے گھر والا میرے گھر آیا اور بیوی نے اپنے بہنوئی سے کہا کہ مجھے طلاق دی ہے۔ میری سالی کے گھر والے نے میرے بڑے سالے کو اور میرے چچا سسر کو جا کے کہہ دیا۔ مفتی صاحب میں ۲۷ شب قدر کی رات کی تراویح پڑھ کر آیا تو وہ میرے گھر پر بیٹھے تھے، میرے سالے نے مجھ سے جھگڑا کیا اور چا سر نے مجھ سے پوچھا کہ ہم نے کیا سنا ہے۔ مفتی صاحب ایک نمازی آدمی ہوں میں نے سچ کہا جو آپ نے سنا ہے وہ صحیح سنا ہے اور میرا سالہ اور میرا چچا سسر میری بیوی کو اپنے گھر لے گئے ۔ مفتی صاحب میری بیوی اپنے بچوں میں آنا چاہتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ میری طلاق کیا واقع ہو گئی یا نہیں؟ کیا میرا نکاح بغیر حلالہ کے ہو سکتا ہے؟ مفتی صاحب ۔ ہم آپ کے دار العلوم کا فتویٰ چاہتے ہیں۔ میں نے پاکستان کے سب سے بڑے بڑے دارالعلوم کے فتوے بھی منگائے ہیں ، وہ سب کہتے ہیں کہ طلاق میں اضافت ضروری ہے، بغیر اضافت طلاق واقع نہیں ہوتی۔ مفتی صاحب علامہ اختر رضا خانصاحب مفتی اعظم ہند مجھ کو آپ کے اہل سنت دار العلوم کا فتویٰ چاہئے، پاکستان کے دارالعلوم کا فتویٰ منگا چکا ہوں۔ لاہور کا دار العلوم مرکزی حزب الاحناف لاہور، پاکستان، جامعہ رضویہ مظہر اسلام، فیصل آباد کا بھی۔ المستفتی: محمد ادریس معرفت محمد یعقوب دوکاندار پاکستان صوبہ سندھ نواب شاہ عبد القادر پارک روڈ ، منو آباد، ڈاکخانہ خاص نواب شاہ
الجواب: اضافت لفظ میں ہونا ضروری نہیں بلکہ نیۂ ودلالۂ اضافت ہونا بھی کافی ہے اور یہ معلوم ہے کہ آدمی طلاق اپنی بیوی کو ہی دیتا ہے کسی اور کی بیوی کو عام طور پر طلاق نہیں دیتا تو یہ عرف و عادت خود اضافت پر قرینہ کا فیہ ہے اسی لئے علماء نے فقط الحرام یلز منی “ پر وقوع طلاق کا حکم فرمایا، کمافی الدر المختار ۔ لہذا نظر برظاہر و بنابر عرف تین طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم ہے۔ سائل کا قول کہ میرا ارادہ بیوی کو طلاق دینے کا نہیں تھا، یہ اس صورت میں بھی صادق ہے کہ طلاق طلاق طلاق کہنے میں اصلاً سائل کی نیت نہ رہی ہو اور اس صورت میں ضرور طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم ہے اور عدم نیت کا دعویٰ مسموع نہیں کہ صریح محتاج نیت نہیں ہوتا۔ البتہ اگر سائل اپنی مراد صاف صاف بتادے اور وہ معنی محتمل اور لائق قبول ہوں تو بہ قسم مان لیں گے اور طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۷ / رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی