طلاق کا ثبوت به صورت انکار شوہر گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے!
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: نماز یا کوئی اور کلام بلا نیت کے ہوتا ہے یا نہیں؟ ایک دن ایک شخص نے اپنی والدہ سے جھگڑے کے دوران بلانیت غصے کی حالت میں پندرہ بیس بار طلاق ، طلاق کہا جبکہ بیوی سے کوئی لڑائی جھگڑا کبھی نہیں ہوا تھا، بیوی کمرے میں اندر سورہی تھی۔ لڑکی کے والدین جب لینے آئے تو اس نے کہا میں نہیں جاؤں گی، مجھے طلاق نہیں ہوئی ہے۔ یہی میکے میں کہتی رہی پندرہ بیس دن تک ۔ اب کہتی ہے کہ طلاق ہوگئی ہے۔ کیا لڑکی کے کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟ اب لڑکا اپنے کہے ہوئے الفاظ کو جھٹلا کر کہتا ہے کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا ہے کہ میں طلاق دے دوں گا۔ کیا لڑکا یا اس کے گھر والے یا جن لوگوں نے سنا ہے وہ سب لوگ بیان بدل رہے ہیں ، اس میں لڑکا یا سننے والے یا گھر والے یا لڑکی یا اگر اس کے گھر والے بھیجد میں تو اس گناہ کا حقدار کون ہوگا؟ لڑکی حاملہ ہو تو طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟ ایسی حالت میں عدت کے دن کتنے ہوتے ہیں ؟ پورا مسئلہ یہ ہے۔صاف صاف تحریر فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی!
فی الواقع اگر لڑکے نے تین یا اس سے زائد بار طلاق طلاق طلاق کہا تو تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہے جبکہ ماں نے بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا ہو یا اس مجلس میں کسی طرح طلاق کا ذکر ہوا ہو۔ اس صورت میں نیت پر وقوع طلاق موقوف نہیں کہ دلالت حال سے نیت معلوم اور اضافت موجود ہے اور دوسرا احتمال مفقود ہے اور اگر وہ مجلس مذاکرہ طلاق کی نہ تھی نہ ماں نے اس سے طلاق کو کہا تھا جب بھی بحسب ظاہر وقوع طلاق کا حکم ہے کہ آدمی طلاق اپنی بیوی کو ہی دیتا ہے کسی اور کو نہیں دیتا تو عرفاً اضافت موجود ہے اگر چہ لفظاً صراحت موجود نہیں۔ مگر احتمال ہنوز قائم ہے۔ لہذا اگر بہ حلف زید یہ کہہ دے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی تو طلاق واقع نہ ہوگی اور طلاق کا ثبوت بہ صورت انکار شوہر گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے محض عورت کا بیان نا مسموع ہے۔ مگر جبکہ وہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابودے، بلکہ اس سے دور بھاگے۔ اور ایسی صورت میں شوہر کو چاہئے کہ طلاق دے کر بیوی کی گلو خلاصی کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ رذی القعده ۱۴۰۶ھ