جبر و اکراہ کے ذریعہ طلاق کا حکم؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی شادی ہندہ کے ساتھ قریب ساڑھے تین سال ہوئے ، ہوئی تھی۔ زید کی بیوی ہندہ سے قریب ڈیڑھ سال کا ایک لڑکا بھی ہے۔ اسی درمیان زید کی ہندہ سے اور زید کے والدین سے کچھ بد مزگی کسی بات پر رہی۔ بہر حال اب زید کی بیوی اپنے میکہ میں ہے۔ زید کے گھر کے لوگوں نے زید سے جبر ۳۴ / طلاق لکھوا کر زید کی بیوی ہندہ کو بھجوا دیا۔ جبکہ زید نے اپنی خوشی سے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے۔ گھر والوں کے دہشت وڈر سے ایسا کیا ہے۔ اور طلاق نامہ پر تین گواہ ہیں۔ جوصوم و صلوۃ کے پابند نہیں ہیں ۔ اب گھر والوں کو بھی بہت رنج و افسوس ہے کہ ناحق ایسا کرایا گیا۔ یعنی زید کے والدین کو سخت صدمہ ہے۔ ادھر ہندہ بھی رو پیٹ رہی ہے۔ اب ادھر زید کی بھی حالت ابتر ہوگئی ہے۔ یہ سب تاؤ بازی اور زبردستی سے کرایا گیا ہے۔ طرفین اپنی اپنی طرف سخت رنجیدہ ہیں ۔ آپ
سے درخواست ہے کہ از راہ کرم بہت جلد ہی حکم شرعی سے مطلع فرما ئیں۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتی: احقر رفیق احمد ، رغبت حسین، ڈاکخانہ تحصیل کنڈہ ضلع پرتاپ گڑھ (یوپی) الجواب: في الواقع جبر و اکراہ اگر شرعی تھا، یعنی قتل نفس قطع عضو یا ضرب شدید کی دھمکی دی گئی اور اسے صحیح اندیشہ تھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں یہ لوگ ایسا کر گزریں گے، جیسا کہتے ہیں تو اس طلاق نامہ میں درج طلاق واقع نہ ہوئیں۔ اور ہندو بدستور زید کی بیوی ہے۔ بشرطیکہ زبان سے طلاقیں نہ دی ہو۔ اور اگر جبر شرعی نہ تھا، بلکہ معمولی دباؤ تھا تو اس طلاقنامہ میں جتنی طلاقیں جس طرح تحریر ہوں، واقع ہونے کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ٢ / رجب المرجب ۱۴۰۴ھ ، نزیل دیاره گجرات