حالت حمل میں دی گئی طلاق اور تین طلاق کے واقع ہونے کا بیان
حالت حمل میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۱) زید نے اپنی زوجہ سے کہا کہ طلاق دی، طلاق دی، پھر اس کے بعد یہ کہا کہ دی ۔ کیا اس میں طلاق ہوسکتی ہے یا نہیں؟ (۲) زید کی زوجہ حالت حمل میں ہے۔ کیا اس حال میں طلاق ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ زید کی زوجہ نے یہ کہنے پر مجبور کیا تو جو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ دے تو زید نے فوری طور پر کہا کہ میں کہہ دوں، کہہ دوں؟ زید میں اور زوجہ کے والد میں تکرار ہوئی جس میں زید نے دو طلاق کے الفاظ کہے۔ اس مسئلہ میں وضاحت کے ساتھ سارے سوالات کے جوابات عنایت فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتى : محمد صغير قصبه امر یا، پوسٹ امراء موضع ٹانڈہ ضلع پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور زوجہ زید اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ لہذا بعد وضع حمل وہ مطلقہ عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے۔ وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا موت وغیرہ کسی سبب سے نکاح ختم ہو جائے اور عدت گزر جائے تو زید کو اس سے نکاح حلال ہوگا۔ اور سوال نمبر ۲ میں مسئول زید ہی ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رشعبان المعظم ۱۴۰۷ھ