دو طلاق دینے پر رجعت کا اختیار ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: سنجیدہ بانو نے بیان دیا ہے کہ میرا شوہر میری ماں کے گھر مجھ کو بلانے آیا اور مجھ سے اور میری ماں سے کچھ جھگڑا ہوا اس پر میرے شوہر نے مجھ سے دو بار یہ کہا کہ میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی ۔ یہ کہ کر میرا شوہر میری ماں کے گھر سے فوراً چلا گیا۔ موقع پر کوئی آدمی نہیں تھا،صرف میری ماں اور میری چچی موجود تھیں۔ تصدیق بیان سنجیده با نو (حاجی اختیار حسن) موضع عارف پورنواده
الجواب: بر تقدیر صدق سوال دو طلاقیں رجعی واقع ہو گئیں۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے بشرطیکہ پہلے کبھی ایک طلاق نہ دی ہو۔ رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بھی بتادے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ