مشروط طلاق کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کی بیوی ہندہ ہے اور زید نے قسم د یا ہندہ کو ہر تو راستے میں اپنے والدین سے بولینگی یا اپنے میکے کی کوئی چیز کھاؤ گی ، لاؤ گی تو تین طلاق ۔ صرف ایک بار کہا ہے۔ اور کچھ دنوں کے بعد ہندہ اپنی ساس اور زید کی اجازت پر میکے چلی گئی، کچھ لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ طلاق ہوگئی اور حلالہ کرنا پڑے گا تو زید ہندہ کو اپنے گھر پر لاسکتا ہے یا پہلے حلالہ کرنا پڑے گا؟ اور جن لوگوں نے اعتراض کیا ہے ان پر کیا حکم ہے؟ اور زید و ہندہ پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ خلاصہ تحریر فرمائیں!
الجواب: المستفتی محمد مظاہر حسین شیکھیا دا ہٹاڈھور، پورنیہ (بہار) درت مسئولہ میں ہندہ نے اگر اپنی ماں سے راستے میں بات کی ہے یا اپنے والدین کے گھر کی کوئی چیز کھائی یا لائی تو اس پر بموجب شرط مذکور فی السوال کے پائے جانے کے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ اس کے لئے ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس سے نکاح نہ کر سکے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف