دو مرتبہ لفظ طلاق کہنے کا شرعی حکم اور گواہی کا مسئلہ
شوہر نے طلاق دے دی ، طلاق دے دی“ کہا، کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید و ہندہ میں کوئی جھگڑا نہیں تھا لیکن زید کے والد بکر و ہندہ میں تکرار ہورہی تھی بکر ہندہ کا خسر ہوتا ہے۔ ایک بکس کی وجہ سے ہندہ یہ کہتی تھی کہ میں یہ بکس لے لوں گی ، بکر کا کہنا تھا کہ میں بکس نہیں دوں گا۔ کافی ٹائم تک تکرار رہی ، زید خاموش رہا۔ پھر زید نے کہا کہ میں بکس لا کر دے دوں گا اور طلاق بھی دے دوں گا پھر زید نے کہا کہ طلاق دی ، طلاق دی۔ ہندہ کا کہنا ہے میں نے ان لفظوں کو نہیں سنا۔ ہندہ کی بہن عمر رسیدہ کہتی ہے کہ میں نے یہ لفظ سنے دو مرتبہ۔ پھر ہندہ کو بتا یا پھر زید باہر نکل کر اپنے والد یعنی بکر سے کہا کہ میں ختم کر آیا۔ اس موقع کا کوئی گواہ نہیں ہے صرف ہندہ کی بہن ہے۔ یہ سوال زیدو ہندہ اور ہندہ کی بہن تینوں حضرات کے یہاں بروئے حلف بیان درج ہیں۔ مہربانی کر کے شریعت
الجواب: شوہر اگر مقر ہے تو دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اگر پہلے یا بعد میں ایک طلاق اور نہ دی ہو تو عدت میں رجعت کا اختیار ہے۔ جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گاروں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بھی بتا دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ رصفر المظفر ۱۴۰۷ھ