زبردستی طلاق کے مطالبے اور غیر مسلم یا قریبی رشتہ دار کی گواہی کا مسئلہ
میں طلاق نہیں دوں گا۔ اس بحث کے دوران پل پر چار چھ آدمی اور جمع ہو گئے اور معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے قریب کے گاؤں دھنوری جو امریا کے قریب ہے لے گئے اور وہاں جا کر زید سے معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ میری سسرال والے جو موضع تر کنیاں کے رہنے والے ہیں مجھ سے جبراً طلاق دینے کو کہہ رہے تھے، اپنی بیوی کو میں کسی حالت میں طلاق دینے کو تیار نہیں ہوں اور نہ ان کے کہنے سے میں نے طلاق دی ہے۔ جب دھنوری والوں نے زید کی سسرال والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس سے مار کر طلاق لے لی اور ہمیں اس کے یہاں لڑکی بھیجنا نہیں ہے۔ دھنوری والے اس پنچایت کو لے کر بتاریخ ۷ ا ر اگست مطابق ۱۰ رذی الحجہ بروز اتوارترکنیاں پہونچے تو زید کے خسر سے تر کنیاں والوں نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو اس نے بتایا کہ ہم نے زید سے اپنی لڑکی کی طلاق لے لی۔ زید سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ مجھ سے جبر أطلاق لینا چاہ رہے تھے میں طلاق دینے کو تیار نہیں تھا، اس بات سے ان لوگوں نے میرے دو چار ہاتھ بھی مارے مگر عام راستہ تھا، قریب قریب ۱۰-۱۵ رآدمی وہاں جمع ہو گئے اور دھنوری لے گئے اور اب یہاں آئے ہیں۔ زید کے خسر سے پوچھا کہ تم نے کس کے سامنے طلاق لی؟ تو اس نے موضع امریا کے ایک شخص کا نام بتایا کہ اس کے سامنے طلاق دی ہے۔ جب اس آدمی کو بلایا اور پوچھا تو اس نے کہا کہ بھائی مجھے اللہ کو منھ دکھانا ہے، میں جھوٹ نہیں بول سکتا ، میرے سامنے طلاق نہیں دی ہے اور اسی طریقہ سے میں کچہری میں بھی کہہ دوں گا کیونکہ نہ زید میر ا عزیز ہے اور نہ تر کنیاں والے۔ جب اس نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تو گاؤں والے زید کے خسر کے خلاف ہو گئے، مجبور ہوکر اس نے گاؤں کے ایک آدمی جس کا نام روشن لال ہے، جو اہل ہنود ہے، اسے گواہ بنایا اور اس سے کہا کہ میں نے تیرے معاملہ میں گواہی دی تھی اب تجھے میری طرف سے گواہی دینا ہوگی اور جو تو کہے گا تو روپے پیسے سے بھی تیری مدد کروں گا۔ لہذا وہ گواہی دینے کو تیار ہو گیا اور ایک گواہ اس نے اپنے لڑکے یعنی زید کے سالے کو بنایا۔ کیا بھائی کی گواہی ہوسکتی ہے؟ یا اس روشن لال کی گواہی ہوسکتی ہے؟ مطلع فرمائیں، ایک شخص موقع پر موجود تھا جس کا نام محمد حنیف ہے، وہ گواہی دے گا کہ حقیقت میں طلاق نہیں دی ہے۔ المستفتی: محمد احسان موضع و پوسٹ منڈ یا نبی بخش مضلع بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں ان دونوں کی شہادت شرعاً نا مسموع و غیر مقبول ہے اور طلاق بے ثبوت شرعی به صورت انکار شو ہر ثابت نہ ہوگی۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ ربیع الآخر ۱۴۰۷ھ