شوہر کے ان الفاظ کہ میں نے اپنی بیوی کا فیصلہ کر دیا ہے سے طلاق کا حکم اور رجوع کا طریقہ
شوہر نے کہا میں نے اپنی بیوی کا فیصلہ کر دیا ہے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شریعت مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید اور ہندہ میں جھگڑا ہوا زید نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کا فیصلہ کر دیا ہے۔ یہ الفاظ زید کی زبان سے کئی بار نکلے تھے۔ یہ الفاظ زید کی زبان سے غصہ میں نکلے تھے اور طلاق جب بھی دوں گا ایک ہی دوں گا۔ اگر ان الفاظ سے طلاق ہوگئی تو اس کی واپسی کی کیا صورت ہوگی ؟ (۲) اگر زید کی زبان سے جو الفاظ نکلے ہیں، ان سے طلاق واقع ہوگئی تو کون سی طلاق واقع ہوگی؟ اور اگر یہ الفاظ طلاق کے خیال سے کہے گئے ہوں تو طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ اس کی کیا صورت ہوگی ؟ اور کتنی مدت تک اس کی واپسی ہو سکتی ہے؟ جبکہ بیس دن گزرنے لگے۔ ابھی دونوں کے درمیان اختلاف قائم ہیں۔ مستفتی: محمد سید تصور علی نوری
الجواب: (۱، ۲) فیصلہ اگر اس جگہ کے عرف میں طلاق کے معنی میں اکثر و بیشتر مستعمل ہوتا ہے تو اس صورت میں ہندہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بھی باخبر کر دے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ پہلے یا بعد میں دو طلاقیں نہ دی ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله