حلالہ کے لئے نکاح صحیح اور جماع شرط ہے!
مکر می سلام مسنون ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی کو واقعی تین طلاق دی جس کے گواہ شرعی موجود ہیں اور اب اس کی بیوی نے عدت گزرنے کے بعد حلالہ کیا مگر اس نے رجعت نہیں کی اس کے بعد اس کا نکاح ثانی پھر زید سے ہو گیا۔ اس صورت میں ہندہ کا زید سے نکاح ثانی ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اور جولوگ ان سے میل جول رکھتے تھے ، انہیں رکھنا چاہئے یا نہیں؟ ان باتوں کا جواب بالکل صحیح شریعت مطہرہ کی روشنی میں مرحمت فرما دیں اور اُن لوگوں کے لئے بھی جواب مرحمت فرمادیں جو اُن سے میل جول رکھتے ہیں۔ عین نوازش ہوگی اور ہندہ کی بہن کی آج شادی ہو رہی ہے۔ ایسی صورت میں اس کے ولیمہ وغیرہ کی دعوت کھانا جائز ہے یا ناجائز ؟ اور جولوگ کھالیں گے، ان کے لئے کیا حکم ہے؟ غلام صفی ومحمد علی ٹنکپور امام محمد اشرف قدیری پتہ: پرانی مسجد اہل سنت و جماعت ( نینی تال)
الجواب: رجعت سے کیا مراد ہے؟ حلالہ میں شرط یہ ہے کہ دوسرے سے نکاح صحیح ہو اور وہ کم از کم ایک بار جماع کر کے جب طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو پھر عدت گزار کر پہلے سے نکاح کر سکے گی۔ اگر ثبوت شرعی سے یہ ثابت ہو کہ شوہر ثانی نے اس عورت سے جماع نہ کیا تو وہ پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ۔ دونوں پر لازم ہے کہ فورا علیحدہ ہو جائیں اور تو بہ کریں ورنہ اشد گناہ گار ہیں ۔ انہیں ہر مسلمان چھوڑ دے اور جو واقف حال ان سے ملیں وہ بھی سخت گناہ گار قطع تعلق کے مستحق ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۷ / جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی/ ۶ رمئی ۱۹۷۸ء