عورت اگر تینوں طلاقوں کی سچی مدعیہ ہے تو شوہر کوخود پر قابو نہ دے
حضرت مولانا صاحب ! السلام علیکم بعد ادائے آداب کے گزارش یہ ہے کہ: محمد صدیق صاحب کا کہنا ہے کہ میں قرآن کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق اپنی عورت کو نہیں دی اور محمد صدیق صاحب کی بیوی صاحبہ جس کا نام جمال بانو ہے، یہ کہتی ہے کہ میں قرآن کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ محمد صدیق صاحب نے ہم کو طلاق دے دی ہے۔ اب اس میں کیا ہونا چاہئے ؟ اس کو تو آپ حضرات ہی بتا سکتے ہیں۔
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر دو مرد عادل یا ایک مرد ، دو عورتیں عدول ومنتقلی کے سامنے شوهر نے طلاق نہ دی نہ ایسوں کے سامنے اقرار طلاق کیا تو طلاق ثابت نہ ہوگی ۔ لیکن عورت اگر تینوں طلاقوں کی سچی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کو شوہر کو خود پر قابو دے، بلکہ اس سے ایسے ہی بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۱؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی/ ۲۳ فروری ۱۹۷۸ء