غصے میں طلاق دے کر ہوش وحواس کا درست نہ بتانا معتبر نہیں
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصہ میں یہ کہہ دیا کہ میں نے طلاق دی، تین مرتبہ کہہ دیا۔ آیا اس طرح طلاق ہوئی یا نہیں؟ جواب دیں۔ اس شخص نے کہا میں نے بیوی کا نام نہیں لیا، ایسے ہی غصہ میں کہہ دیا، میرے ہوش و حواس بھی ٹھیک نہ تھے۔ اس طرح طلاق ہوئی یا نہیں؟ جواب دیں! المستفتی: برکت اللہ محلہ سادھو کا ، پور پور ضلع پیلی بھیت
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: تین طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ عورت حرام ہو گئی ، بے حلالہ کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جاوے تو عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرلے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۹۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
عورت اگر تینوں طلاقوں کی سچی مدعیہ ہے تو شوہر کوخود پر قابو نہ دے
باب: کتاب الطلاق
حلالہ کے لئے نکاح صحیح اور جماع شرط ہے!
باب: کتاب الطلاق
بیوی کا طلاق ثلاثہ کا دعویٰ اور شوہر کا حلفیہ انکار
باب: کتاب الطلاق
محض عورتوں کے بیان سے حکم طلاق نہ ہوگا
باب: کتاب الطلاق
بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد ڈرانے دھمکانے کی نیت کا شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق