بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد ڈرانے دھمکانے کی نیت کا شرعی حکم
زید کی بہن اور بیوی میں اس بات پر جھگڑا ہورہا تھا کہ زید کی بیوی اپنے بچوں کو ان کی شرارت پر بری طرح مار رہی تھی ، زید کی بہن نے اپنی بھاوج سے کہا کہ تم اکثر اسی طرح بچوں کو زدوکوب کرتی ہو، یہ اچھا نہیں ہے تم بچوں کی وجہ سے ہی یہاں رہ رہی ہو ورنہ تم کو اس عادت پر چھڑ وادی ہوتی۔ اس پر زید کی بیوی نے طیش میں آکر کہا کہ تمہیں اپنے باپ کی قسم ہے جو مجھے نہ چھڑاؤ، زید گھر میں تھا، اسے یہ سن کر بہت غصہ آیا کہ میرے باپ کی قسم کھلا رہی ہے۔ بیوی سے کہ دیا: طلاق دی ، طلاق دی یہ دو مرتبہ کہا۔ پھر ایک منٹ خاموش رہا اور بیوی کی طرف سے منہ پھیر کر ایک دفعہ کہا طلاق دی، زید کا قسم کہنا ہے کہ منہ پھیر کر جو ایک دفعہ پھر کہا کہ طلاق دی، وہ محض ڈرانے دھمکانے کی غرض سے کہہ دیا تھا، تیسری طلاق دینا مقصود نہ تھا۔ اگر ایسا ہے تو دریافت لب امر یہ ہک صورت دور میں کس سم کی طلاق واقع ہوگی فقط! المستفتی : شفقت یار خاں ، ساکن سیلم پور ( دیلی)
الجواب: صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ اس سے جماع کرے، پھر جب وہ طلاق دیدے اور عدت گزر جائے تو پہلے سے نکاح کر سکے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۳۰ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ طلاق دے کر ڈرانے دھمکانے کا عذر غلط ہے۔ اس سے تو بہ کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی / ۱/۲۷اکتوبر ۱۹۷۸ء