نابالغ کی طلاق شرعا واقع نہیں ہوتی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور ہندہ کا نکاح ہوا تو یہ دونوں نابالغ تھے، کچھ دنوں بعد ہندہ بالغ ہوگئی اور زید نابالغ ہی رہا۔ ایسی حالت میں ہندہ کے گھر والوں نے یعنی اس کے ولی زید کے باپ سے طلاق مانگنے لگے کہ میری لڑکی کو طلاق دے دو کیونکہ میری لڑکی بالغ ہوگئی اور تمہارا لڑکا نابالغ ہے۔ ایسی حالت میں تمہارے گھر میری لڑکی کا گزر بسر نہیں ہوگا۔ تو زید کے باپ نے طلاق دینے سے انکار کر دیا۔ ہندہ کے گھر والوں نے ڈرایا دھمکایا کہ اگر طلاق صحیح طریقے پر نہ دئے تو مار پیٹ کی نوبت آجائے گی۔ زید کے گھر والوں نے جان لیا کہ یہ لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اس وقت گاؤں کے ایک پیش امام صاحب بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے نازک حالات کو دیکھ کر زید کو بلا کر طلاق دلوا دیا۔ زید بغیر اپنے باپ کی اجازت کے ہندہ کو طلاق دے دیا۔ جبکہ زید نا بالغ ہے۔ ایسی حالت میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟ بیان فرما ئیں اور اگر باپ نے اجازت دے دیا ہو تو کیا حکم ہے؟ حضرت اس مسئلہ پر بھی غور فرمائیں کہ ہندہ کی شادی دوسری جگہ ہوگئی ہندہ اپنے گھر بھی گئی اور ایک مولانا صاحب نے اپنے شاگرد کو بھیج کر نکاح پڑھوا دیا۔ اگر طلاق واقع نہ ہوئی تو ان حضرات کے بارے میں بیان فرمائیں کہ ان کے لئے کیا حکم ہے؟ مستفتی: رضوی قاسم پر اسمعیل ضلع گونڈو پوسٹ فتح پو ر تھا نہ سادی نگر
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع زیدا گرنا بالغ ہے تو اس کی طلاق واقع نہ ہوئی ہندو بدستور زید کی منکوحہ ہے اور بیاہی کا نکاح بے طلاق وانقضائے عدت حرام قطعی ہے۔ جس نے دانستہ ایسا نکاح پڑھایا اور وکیل و گواہ وشرکائے مجلس اور واقفان حال سب اشد گناہ گار دلال زنا کے ٹھہرے، سب پر تو بہ لازم ہے جس کے ساتھ یہ نکاح ہوا، اگر وہ جانتا تھا کہ ہندہ نکاتی ہے تو نکاح باطل محض اور قربت محض زنا ورنہ فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ فرض اور تاخیر گناہ اور متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا یا عورت کہے: میں تجھ سے جدا ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ