طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجعت اور عدت گزرنے کے بعد نکاح جدید کا حکم
طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہوتا ہے نہ کہ انقضائے عدت کے بعد! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : بکر نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی، اور گھر سے نکال دیا۔ اب اس عورت نے دوسرے کے یہاں سکونت اختیار کی اور اس کے شوہر نے قریب دس ماہ تک کوئی گفت وشنید نہیں کی ۔ بعد اس کے وہ عورت اس کے یہاں جا کر بیٹھ گئی جس کو چھ سات ماہ ہوئے اور اس کے یہاں رہتی ہے۔ یہ طلاق صریح ہوئی یا رجعی؟ ہنوز نکاح نہیں کیا۔ لمستفتی : مولوی انوار عظیم تھمٹر ا، ڈاکخانہ لک پور ضلع بیر بھوم ( بنگال )
الجواب: صورت مسئولہ میں دو طلاق رجعی ہو گئیں، رجعی میں عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر عدت گزر چکی ہو ، عورت کی رضا سے یہ مہر جدید نکاح کر سکتا ہے۔ بے نکاح اسے رکھنا حرام ہے جس سے تو بہ لازم ہے۔ عورت بھی تو بہ کرے۔ اور اگر اس وقت عدت قائم تھی جب وہ شوہر کے پاس لوٹی اور اس نے اسے بیوی کے طور پر رکھ لیا تو رجعت ہوگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ