طلاق شرعی کا طریقہ اور ایک سے زائد طلاق بیک وقت دینے کا حکم
سوال
طلاق شرعی کا طریقہ کیا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ: طلاق شرعی کتنی مرتبہ سے واقع ہو جاتی ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں المستفتى : انصارحسین ،محلہ جسولی، بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: طلاق شرعی یہ ہے کہ یہ وجہ صحیح مقبول ایک طلاق ایسے طہر میں دے جس میں عورت سے جماع نہ کیا ہو بلا وجہ شرعی طلاق دینا مکروہ تحریمی ہے اور حیض میں یا اس طہر میں جس میں عورت سے جماع کیا، یا ایک سے زائد طلاق بیک وقت دینا نا جائز ہے۔ مگر دے گا تو ہو جائے گی ۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۸۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شوہر منکر ہے تو محض عورت کے بیان سے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا !
باب: کتاب الطلاق
اگر تعلیق طلاق کے الفاظ میں اختلاف ہو تو کس کا قول معتبر ہے؟
باب: کتاب الطلاق
تین طلاقیں لکھ کر دینے یا دستخط کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بغیر خلوت صحیحہ کے اگر متفرق طور پر طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگی
باب: کتاب الطلاق
قبل خلوت و بعد خلوت تین طلاقوں کی مختلف صورتیں اور ان کا شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق