قبل خلوت و بعد خلوت تین طلاقوں کی مختلف صورتیں اور ان کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ: زیدا اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاق دے دیا ہے۔ زید بالغ ہے اور ہندہ ابھی نابالغہ ہے یعنی ہندہ کی عمر تقریباً گیارہ سال کی ہے اور ابھی علامت سن بلوغ شروع ہوئی ہے لیکن اب تک حیض شروع نہیں ہوا ہے اور نہ زید و ہندہ کے ساتھ وطی ہوئی ہے۔ آیا یہ کہ زید چاہتا ہے کہ پھر دوبارہ ہندہ کو اپنے نکاح میں لائے تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ زید ہندہ کو اپنے نکاح میں لاسکتا ہے یا نہیں ؟ مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ فقط والسلام المستفتی: محمد اشرف علی انصاری رضوی موضع پوچا آم ، پوسٹ موہل پہاڑی ، شکاری پاڑا ضلع سنتھال، پرگنہ (بہار)
الجواب: اگر زید ہندہ سے خلوت صحیحہ کر چکا ہے تو بہر حال تینوں طلاقیں واقع ہو کر بیوی زید کے نکاح سے باہر اور ایسی حرام کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ یونہی اگر ہندہ سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی مگر ایک ہی جملہ میں زید نے ہندہ کو تین طلاقیں دے دی ہوں ( یوں کہا ہو کہ میں نے تجھے تین طلاقیں دیں) تو وہی حکم ہے جو گزرا مگر اس دوسری صورت میں ہندہ پر عدت نہیں اور پہلی صورت میں عدت لازم ہے اور اگر ایک ہی جملہ میں اس غیر مدخولہ کو تین طلاقیں نہ دیں بلکہ یوں کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، یا طلاق دی، دی، دی یا طلاق ، طلاق ، طلاق تو ایک طلاق بائن پڑی اور اس صورت میں شوہر کو اختیار ہے کہ برضائے زن بمہر جدید نکاح کرلے اور حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے صحیح النکاح شوہر سے بعد جماع طلاق لے کر عدت گزارے پھر پہلے شوہر سے چاہے تو نکاح کر لے اور جسے حیض نہیں آتا اس کی عدت تین ماہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم سئله - ۱۹۲ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، منظر اسلام، بریلی شریف ۲۰ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ