نابالغ لڑکے کے ساتھ حلالہ کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی لڑکی کی شادی بکر کے ساتھ ہوئی تھی بکر نے دو ماہ ایک دن میں لوگوں کے سامنے کہنے سننے یا اپنی مرضی سے زید کی لڑکی یعنی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اب بکر کے وارثان ایک نو سال کے لڑکے سے حلالہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا حلالہ ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی جواب دے کر احسان فرما ئیں ۔ بینوا تو جر وا! خادم امیراحمد بیر مال نواب عنایت علی، باقر گنج ، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ورت مسئولہ میں اس لڑکے سے حلالہ نہیں ہوسکتا کہ نابالغ ہے اور مراہق بھی نہیں ہے، کسی بالغ سے حلالہ کرائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۸۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ظالم شوہر سے جبر او قہر یا فہمائش زبانی طلاق لینا اور نفقہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق
تین بار طلاق ، طلاق ، طلاق کہہ کر طلاق دینے اور مہر ادا کرنے کا اقرار نامہ
باب: کتاب الطلاق
حلالہ کا طریقہ، شوہر ثانی کی طلاق کے بعد عدت کا مقام اور نان و نفقہ کے احکام
باب: کتاب الطلاق
روزہ نماز نہ کرنے والی اور بدزبان بیوی کے بارے میں شرعی حکم اور صبر کی فضیلت
باب: کتاب الطلاق
"اگر دروازہ نہیں کھولوگی تو طلاق دے دیں گے" کے الفاظ سے طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق