"اگر دروازہ نہیں کھولوگی تو طلاق دے دیں گے" کے الفاظ سے طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کہا کہ تم میری والدہ کی ساڑی دھودو، بیوی نے انکار کر دیا، اس بنیاد پر زید اور ہندہ دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہونے لگی، زید نے ہندہ کو مارا پیٹا ، ہندہ مکان کے اندر گھس گئی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا، زید نے ہندہ سے کہا کہ ایسی عورت طلاق دینے کے قابل ہے، زید نے یہ جملہ دومرتبہ ہندہ سے کہا۔ اس کے بعد ہندہ نے دروازہ کھول دیا، زید کی بیوی ہندہ کا کہنا ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو دو مرتبہ کہا کہ اگر دروازہ نہیں کھولو گی تو طلاق دے دیں گے۔ لہذا میں نے دروازہ کھول دیا، پھر بعد میں ایک منہ دومنہ چند طرح کی باتیں ہونے لگیں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی، جبکہ زید اور ہندہ دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ لفظ طلاق دو مرتبہ ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ہندہ کو طلاق ہوگئی کہ نہیں ؟ اور اگر ہو گی تو پھر ہندہ اور زید کو ایک جگہ یعنی ازدواجی زندگی گزارنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں! المستفتی: محمد قمر الدین خاں وابید و پوسٹ جلیل پور ضلع بھاگل پور (بہار)
الجواب: سوال میں جو الفاظ لکھے گئے ہیں، ان سے طلاق نہ ہوئی البتہ ان کے علاوہ زید نے اگر دوبار طلاق دی تو اس کی بیوی پر دور جعی طلاقیں واقع ہوگئیں پہلے اگر ایک طلاق نہ دی ہو تو رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو متقی لوگوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ / جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ